پیر، 30-مارچ،2026
پیر 1447/10/11هـ (30-03-2026م)

شوگر ملز کا چینی کو مکمل ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ، معیشت کے لیے ناگزیر قرار

30 مارچ, 2026 15:35

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چینی کی صنعت کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کیا جائے تاکہ ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا فائدہ پہنچایا جا سکے۔

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ذکا اشرف اور سینیئر ممبر محمد رفیق نے ایک پریس کانفرنس کے دوران حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چینی کی صنعت کو فوری طور پر ڈی ریگولیٹ کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں گیارہ لاکھ ٹن چینی فالتو موجود ہے اور اگر حکومت جون سے پہلے برآمد کی اجازت دے تو ساڑھے چار سو ملین ڈالر فوری طور پر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل کے بعد شوگر دوسری بڑی صنعت ہے، جو زرعی بنیادوں پر کھڑی ہے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ پاکستان کی سب سے زیادہ ریگولیٹڈ صنعت ہے، جسے وفاقی وزارتیں کام نہیں کرنے دے رہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کراچی : کلفٹن کے سپر اسٹور میں خوفناک آتشزدگی، کروڑوں کا سامان خاکستر

ذکا اشرف نے بتایا کہ پاکستان کی شوگر ملز ایک کروڑ چالیس لاکھ ٹن چینی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن فی الحال آدھی صلاحیت پر کام ہو رہا ہے۔

ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ چینی کا ستر فیصد استعمال کارپوریٹ سیکٹر کرتا ہے، جبکہ صرف تیس فیصد عوام کے استعمال میں آتی ہے، لہٰذا حکومت کا اس معاملے کو عوامی مسئلہ بنا کر پیش کرنا درست نہیں۔

انہوں نے پنجاب حکومت کے گنے کا ریٹ فکس نہ کرنے کے فیصلے کی تعریف کی، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے معاہدے کے باوجود ایک لاکھ دس ہزار ٹن چینی درآمد کرنے پر شدید تنقید کی

ان کا کہنا تھا کہ پندرہ فیصد ایکسائز ڈیوٹی اور اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر اس صنعت کو چاول کی طرح آزاد کر دیا جائے تو پاکستان پانچ سالوں میں چینی کی برآمد سے چار ارب ڈالر کما سکتا ہے اور دنیا کا تیسرا بڑا پیدا کنندہ ملک بن سکتا ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔