جمعہ، 10-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/22هـ (10-04-2026م)

آئی ایم ایف نے نیب چیئرمین کی تقرری میں اپوزیشن کی شمولیت لازمی قرار دے دی

07 اپریل, 2026 15:19

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے نئے قرض پروگرام میں انسداد بدعنوانی کے ادارے نیب کی خودمختاری اور شفافیت کے حوالے سے سخت شرائط عائد کر دی ہیں۔

قرضوں کے حصول کے لیے کوشاں پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے ایک نئی اور سخت شرط کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ کی تقرری کے لیے اپوزیشن کی شمولیت کو لازمی قرار دے دیا ہے اور ایک شفاف و خودمختار نظام بنانے کی ہدایت کی ہے۔

حکومت نے ان شرائط پر عملدرآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے ایک ملٹی سیکٹر کمیشن قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس میں حکومت اور اپوزیشن کے علاوہ عدلیہ اور سول سوسائٹی کی بھی نمائندگی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : جاری جنگ سے مہنگائی ناقابل برداشت اور عالمی معیشت سست ہو جائے گی، آئی ایم ایف

نیب آرڈیننس میں ترامیم کے ذریعے تقرری کے لیے میرٹ اور تجربے کو لازمی قرار دیا جائے گا، جبکہ بیورو کی کارکردگی، تحقیقات اور سزاؤں کا تمام ریکارڈ عوامی سطح پر جاری کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہر چھ ماہ بعد کرپشن کے خلاف اقدامات پر پیش رفت رپورٹ ویب سائٹ پر شائع کی جائے گی۔

آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق حکومت دس بڑے محکموں میں کرپشن کے خطرات کم کرنے کے لیے ایکشن پلان تیار کرے گی اور صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کی استعداد کار بڑھا کر انہیں منی لانڈرنگ کیسز کی تحقیقات کے اختیارات بھی دیے جائیں گے۔

ایک اور اہم شرط کے تحت اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثے دسمبر تک پبلک کیے جائیں گے اور ایف بی آر کی مدد سے ان کی ڈیجیٹل تصدیق ہوگی۔

آئی ایم ایف نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ اگر محصولات کے اہداف پورے نہ ہوئے تو حکومت کو منی بجٹ لانا پڑے گا، جس پر حکومت نے مالی اہداف کی ناکامی کی صورت میں آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔