امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں 16 فیصد تک کی ریکارڈ کمی

امریکہ اور ایران کے درمیان مشروط جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ڈرامائی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ جہاں ایک طرف قیمتیں 16 فیصد تک نیچے گری ہیں، وہاں ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے تاہم اب بھی تمام نظریں اسرائیل، ایران اور دیگر فریقین پر جمی ہیں کہ آیا یہ جنگ بندی برقرار رہ سکے گی یا نہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ابھی مذاکرات میں ایک بڑا خلا موجود ہے، جسے پر کرنا باقی ہے، اس لیے مارکیٹیں فی الحال ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : نتین یاہو کی صدر ٹرمپ کے سیز فائر کے فیصلے کی حمایت، لبنان میں جنگ بندی سے انکار
اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل کے سودوں میں تقریباً 16 فیصد کمی ہوئی ہے، جس کے بعد قیمت 94 ڈالر 59 سینٹ فی بیرل پر آگئی ہے۔ اسی طرح برینٹ خام تیل کی قیمت بھی 15 فیصد کمی کے بعد 92 ڈالر 35 سینٹ فی بیرل تک گر گئی۔
ایشیائی منڈیوں میں بھی اس خبر کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، جہاں جاپان کے نکی انڈیکس میں 5 فیصد اور جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ سے ٹریڈنگ کو کچھ دیر کے لیے روکنا پڑا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔
اگرچہ تاجروں کے لیے یہ اعلان حیران کن تھا، لیکن جاپان کے انسٹی ٹیوٹ آف انرجی اکنامکس کا کہنا ہے کہ خطے میں ہونے والے جنگی نقصانات کے باعث قیمتوں کے جنگ سے پہلے کی سطح یعنی 70 ڈالر تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں۔
واضح رہے کہ منگل کے روز تک تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر تجارت کر رہی تھیں۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












