ملک بھر میں مہنگائی 19 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچی گئی

Another major blow for the public already suffering from inflation
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ملک میں مہنگائی نے ایک بار پھر زور پکڑ لیا ہے۔
ہفتہ وار بنیاد پر مہنگائی میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے ساتھ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 12.15 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ 19 ماہ کی بلند ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی بڑھنے کی بڑی وجہ بنا ہے۔ ایک ہی ہفتے کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 54.71 فیصد تک اضافہ ہوا۔ پیٹرول 18 فیصد مہنگا ہوا جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں 8.61 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات کو بھی متاثر کیا ہے، جس کا اثر براہ راست عام آدمی پر پڑ رہا ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے 28 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ سبزیوں میں ٹماٹر کی قیمت 9.35 فیصد تک بڑھ گئی جبکہ آلو 4.13 فیصد مہنگے ہوئے۔ پیاز کی قیمت میں 3.84 فیصد اور انڈوں کی قیمت میں 3.77 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ بیف، مٹن اور بریڈ بھی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں، جس سے گھریلو بجٹ مزید متاثر ہو رہا ہے۔
سالانہ بنیاد پر بھی مہنگائی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیاز کی قیمت ایک سال میں 38 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔ گندم کا آٹا 30 فیصد سے زائد مہنگا ہو گیا ہے۔ اسی طرح سرخ مرچ 15.20 فیصد، مٹن 15 فیصد اور بیف 14 فیصد مہنگے ہوئے۔ خشک دودھ کی قیمت میں بھی 10.23 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک سال کے دوران ڈیزل کی قیمت 101 فیصد تک بڑھ گئی جبکہ پیٹرول 49 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں 66 فیصد اور گیس چارجز میں 30 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











