آسٹریلیا میں اسرائیل مخالف قوتوں کے خلاف پالیسی کا نفاذ شروع

Implementation of policy against anti-Israel forces begins in Australia
آسٹریلیا میں اسرائیلی اثرونفوز تیزی سے بڑھ رہاہے۔ جولائی 2024 میں نام نہاد یہود دشمنی یعنی اسرائیل پرتنقید روکنےکےلئےآسٹریلیا میں ایک نیا ادارہ قائم کیا گیا، یہ ادارہ کسی مخصوص ایکٹ یا آئین سازی کےبجائے وزیرِاعظم آسٹریلیا اینتھونی البانیزکےانتظامی حکم پرقائم کیا گیا ہے،اس ادارے کا نام آسٹریلیازاسپیشل اِنوائے ٹوکامبیٹ اینٹی سیمیٹزم یعنی(اےایس ای سی اے) یہود دشمنی کا مقابلہ کرنیوالا حکومتی ادارہ ہے،اس کی سربراہی اسرائیلی گروپس کی سفارشات پرصیہونی کارکن اوراسرائیل کی کھلم کھلا حمایت کرنیوالی معروف وکیل اورنیوسائوتھ ویلزیونیورسٹی کی ڈپٹی چانسلرجیِلیان سیگل کےحوالے کی گئی ہے،نام نہادیہودشمنی کےنام پرقائم ہونےوالایہ ادارہ براہِ راست آسٹریلین پرائم منسٹراورآسٹریلین ہوم منسٹرکورپورٹ کرتاہے
جیِلیان سِیگل کون ہیں؟
جیلیان سیگل جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئیں اورقانون کی اعلی تعلیم آسٹریلیا اورامریکہ سےحاصل کی،جیلیان نےاعلی ترین حکومتی پالیسی بورڈزاوراداروں میں طویل عرصے کام کیا۔ جیلیان سیگل کی پیشہ وارانہ زندگی بینکنگ مِس کنڈکٹ سےبھری پڑی ہے۔جس کی وجہ سے 2019 میں آسٹریلیا کوبینکنگ رائل کمیشن قائم کرنا پڑا،جس کی سفارشات کے بعد نیشنل آسٹریلین بینک (نیب جس کی وہ ڈائریکٹر بھی رہیں) کواپنےصارفین کو1.1 ارب ڈالرزکی ادائگیاں کرنی پڑیں۔
جیلیان سیگل، آسٹریلیا اسرائیل چیمبرآف کامرس کاحصہ رہیں،آسٹریلین وزیرِخارجہ پینی وُونگ نے جب اسرائیل سےغزہ کےاسپتالوں پربمباری روکنے کا مطالبہ کیا تو جیلیان سیگل نےتبصرہ کیاکہ ایسے بیانات اسرائیل اوراس کےساتھیوں کےلئے مددگار نہیں ہیں۔
آسٹریلیا پراثرونفوزکی جنگ میں امریکہ واسرائیل چین پربازی لےگئے!
آسٹریلیا امریکہ اورچین کےدرمیان ایک سینڈوچ ملک کےطوربھی سمجھاجاتاہےلیکن غزہ میں مسلسل نسل کشی کی وجہ سےمذہب اوررنگ ونسل سے بالاترہوکرعام آسٹریلینزاسرائیل کےمظالم اورآسٹریلین گورنمنٹ کی خاموشی پرسراپہ احتجاج رہے،امریکہ میں غزہ کےلئےسب سےزیادہ منظم اندازمیں یونیورسٹی طلبا نےمسلسل احتجاجی مظاہرےمنعقد کئے۔جس کےبعد ڈونلڈٹرمپ نےاحتجاج میں حصہ لینےوالی یونیورسٹیزکی فنڈنگ معطل کی اورغزہ مظاہروں میں شامل غیرملکی طلبا کےویزہ کینسل کرنےکی پالیسی بنائی،برطانیہ میں فلسطین ایکشن نامی ادارےسے جڑے افراد پردہشت گردی کےقانون کےاطلاق کااعلان ہوا،اور اب آسٹریلیا نےاپنی داخلہ پالیسی کی پولیسنگ ایک اسرائیل نواز کے سپُرد کردی گویا مغربی دنیا کی انسان دوست اورانصاف پسندی کابھانڈا ان کی سیکورٹی اورخارجہ پالیسی کےہاتھوں پھٹ گیا
ظاہرہےآسٹریلیا میں اسپیشل انوائے ٹوکامبیٹ اسلاموفوبیا یامسلم فوبیا توقائم نہیں کیا جاسکتا جبکہ اسکا وعدہ آسٹریلین وزیرِاعظم البانیز کئی بارکرچکےہیں لیکن براہِ راست اسرائیلی مفادات کےلئےکام کرنیوالی ایک شخصیت کوایک وزارت جتنی طاقت دینا آسٹریلیا کےمفاد میں بھی نہیں ہے۔ اس وزارت آسٹریلیازاسپیشل اِنوائے ٹوکامبیٹ اینٹی سیمیٹزمیں جیِلین سیگل کےعلاوہ کوئی ممتاز نام سرے سے شامل نہیں ہے جیِلین کےماتحت اَن گِنت معاونین ہیں جنہوں نےپالیسی ڈاکومنٹ بناتےوقت دوسرےمذاہب،طبقہ فکراورنظریات سےتعلق رکھنےوالوں کی آرا لینےکی زحمت بھی گوارانہیں کی اورآسٹریلیا کی اندرونی پالیسی سازی اورحکومتی اسٹرکچرکواسرائیل کاتابع بنادیا۔
آسٹریلیازاسپیشل اِنوائے ٹوکامبیٹ اینٹی سیمیٹزم کانام نہاد یہوددشمنی ختم کرنےکامنصوبہ کیاہے!
جولائی 2025 میں جیلیان سیگل نےآسٹریلیا میں نام نہاد یہوددشمنی کومٹانےکاپلان پیش کیا لیکن آسٹریلین گورنمنٹ نےاس تھوپے گئےپلان پرکوئی ٹھوس ردعمل نہیں دیا اوراس پرعملدرآمد نہیں کیا، لیکن 14 دسمبر کوبونڈائی بیچ پرہونیوالےدہشتگرادانہ حملےنےآسٹریلین گورنمنٹ کوجیلیان سیگل کےمنصوبےکونافذ کرنےپرمجبور کردیا،جس پرجیلیان سیگل نےتبصرہ کیاکہ یہ توشروعات ہے۔
اسرائیل کی مخالفت ختم کرنےکےلئےپورےآسٹریلیامیں کیا تبدیلیاں متوقع ہیں
آسٹریلیازاسپیشل اِنوائےٹوکامبیٹ اینٹی سیمیٹزم اپنی ویب سائٹ پراسرائیل کی مخالفت کویہودمخالفت کےبھیس میں بیان کرتاہےاوراس مخالفت کوختم کرنےکادیرپہ منصوبہ بھی جیلین سیگل نے 20 صفحات میں تفصیل سےبیان کردیاہے
یہ پلان وفاقی اورصوبائی حکومتوں،اسکول سےیونیورسٹی تک کےتعلیمی اداروں، نت نئی قانون سازیوں،یونیورسٹی کےنصاب اوران کی فنڈنگ ، حکومتی اداروں،ڈیجیٹل ورلڈ، قومی ٹیلی ویژن،ویزہ اورشہریت جیسےوسیع میدان کواسرائیل کےلئےہموارکرنےکی دستاویزہے
یہ پلان اس بنیادی حکم سےشروع ہوتاہےکہ آسٹریلیا اوراسکےتمام اداروں میں یہوددشمنی کی واضع تعریف (یعنی وہ ڈیفینیشن جوانٹرنیشنل ہولوکوسٹ ریمیبرینس الائینس کی وضع کردہ تریف ہے) کی آسٹریلیا میں تفصیلات قبولِ عام کروائی جائیں،اس پلان کےمطابق یہود دشمنی کا مطلب یہودیوں کوایک مخصوص نظریہ سےدیکھنا،نفرت رکھنا، جسمانی اورغیرجسمانی طورپریہودیوں یا غیریہودیوں کےخلاف بیانیہ قائم کرنا،ان کی املاک، یہودیوں کےاداروں اورمذہبی سہولیات کونشانہ بناناشامل ہیں۔
اس تعریف کی تفصیلات سےہی تنازعات کا آغازہوتاہے،عالمی صیہونی اس تعریف کی تفصیل مین لکھتےہیں کہ یہودیت سےنفرت کااظہارکےمعانی میں مملکتِ اسرائیل بھی شامل ہےکیونکہ اسرائیل یہودیوں کی اجتماعی تصویرہے
بونڈائی حملے سےاصل ہیروزسامنےآئے
بونڈائی بیچ پر14 دسمبرکوہونیوالے آئی ایس آئی ایس کےدہشتگردانہ حملےکوعام افرادنےانتہائی بہادری سےناکام بنایا۔
شام سےتعلق رکھنےوالےاحمدال احمد نےتنِ تنہا،غیر مسلح اورغیرتربیت یافتہ ہوکربھی ایک حملہ آورسےاس کاہتھیارچھین کران گنت زندگیاں بچائیں،انھوں نےسیدھا سیدھا موت کودہشتگردوں کوچیلنج کیااورمعجزاتی طورپران کی جان بچ گئی
البتہ ایک معمریہودی یوکرینین جوڑےکانصیب اتنا اچھا نا تھا ،اس جوڑےنےسب سےپہلے دہشت گردوں کوکارپارکنگ اسٹینڈ پرروکنےکی کوشش میں اپنی جانیں قربان کی،ایک معمرروسی یہودی نےبھی حملہ آورں کا بےخوفی سےسامناکیااوردہشتگردوں کےہاتھوں جاںبحق ہوئے۔
آسٹریلیا میں ایک بات اکثرکہی جاتی ہےکہ ہنگامی معاملات میں ہیرو بننے کی کوشش ناکریں کیونکہ اس سےنقصان زیادہ ہوتاہے، اس واقع میں مزاحمت کرنیوالوں نےیقینا آسٹریلیا میں رائج اصطلاح یعنی اپنی حفاظت سب سےپہلے یقینی بنائواورڈوناٹ بی ہیرووالےاسباق پرعمل نہیں کیا،شاید اس لئےکہ ان تمام افراد کی پیدائش اورزندگی کا اکثرحصہ ان کےآبائی ملکوں یعنی شام ،یوکرین اورروس میں گزرالیکن انھوں نےآسٹریلیا کواپنا گھراورانسانیت کواپنامذہب سمجھا اوراپنےآپ کوگولیوں کےحوالےکیاجبکہ وہ بھی سینکڑوں افراد کی طرح محفوظ پناہ گاہ ڈھونڈنےنکل سکتےتھےلیکن انھوں نےغیرمسلح اورغیرتربیت یافتہ ہوکربھی ناقابلِ یقین ہمت وبہادری کا مظاہرہ کیا۔
آسٹریلیا میں بونڈائی بیچ پرہونیوالےدہشتگردی کےواقعے کےبعداسرائیل اس واقعے کوبنیاد بناکرپورےآسٹریلین معاشرےکوبدل دینے کی حکمتِ عملی کےساتھ کود پڑا ہے،جبکہ عام آسٹریلینزمیں مذہب کولےکرانتہاپسند جزبات اورمقاصد کےجراثیم موجود نہیں لیکن برطانیہ،امریکہ اوراسرائیل ایک ایسا آسٹریلیا دیکھنا چاہتے ہیں جہاں فلسطینیوں کی زندگیوں پربات کرناآہستہ آہستہ قومی سلامتی کےنازک امورکی طرح عام افراد کےلئےایک شجرِ ممنوعہ بن جائے۔
Catch all the کالمز و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












