ایران پر حملے اور تائیوان کے محاذ پر چین کی حیران کن خاموشی

تجزیہ کاروں کے مابین یہ بحث جاری ہے کہ آیا چین نے ایران پر امریکی حملے کے لیے ماحول سازگار بنایا ہے، یا یہ سب کچھ امریکی صدر کے دورہ چین کو کامیاب بنانے کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہے؟
وصی بابا اپنے تجزیے میں کہتے ہیں کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے اٹھائیس فروری کو شروع ہوئے، اور یہ ایک حیران کن بات ہے کہ تین سال میں پہلی بار تائیوان کی جانب کوئی چینی فائٹر جیٹ جارحانہ پرواز کرتا نظر نہیں آیا۔
ایسا لگتا ہے کہ چین نے اخلاقاً اور احتراماً ایک دن پہلے ہی امریکہ کو تائیوان کی فکر سے بے نیاز کر دیا تھا، تاکہ امریکہ اپنے مفادات آسانی سے پورے کرسکے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ چین کیلئے معاشی خطرہ بن گئی
ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق ٹرمپ کا اکتیس مارچ سے دو اپریل تک دورہ چین متوقع ہے، شاید اسی وجہ سے چین خیر سگالی کا اشارہ دے رہا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اس خیر سگالی کی ٹائمنگ ایران پر حملے سے کیوں جا ملی ہے۔ ایران کے فریگیٹ جہاز کے ڈوبنے اور بھارت کی خاموشی پر بھی سوال اٹھتے ہیں، کیونکہ ماضی میں بھارت ایران کا قریبی ساتھی رہا ہے۔ ان حالات میں پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس نے ایران پر حملوں کی مذمت کی ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










