جمعہ، 6-مارچ،2026
جمعہ 1447/09/17هـ (06-03-2026م)

افغانستان سے ایران تک : عالمی طاقتوں کے بچھائے ہوئے جال اور چین کی بقا کا سوال

06 مارچ, 2026 14:39

تجزیہ نگار پاک افغان کشیدگی، چین کی بدلتی ہوئی عالمی حیثیت اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چین اس وقت ایک ایسے لشکر کی مانند ہے، جس کے سامنے آگ ہے اور پیچھے سمندر۔

فرنود عالم کے تجزیے کے مطابق چین کے کاروباری دوستوں پر برا وقت آیا ہوا ہے اور بیجنگ کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ اپنے دوستوں کو ایک ایک کرکے مٹتے ہوئے دیکھتا رہے گا یا اپنی خارجہ پالیسی میں کوئی واضح تبدیلی لائے گا۔

القاعدہ، طالبان اور وینزویلا کے معاملات کے بعد اب ایران میں بھی حالات بدل چکے ہیں اور رہبرِ اعلیٰ سید خامنہ ای کو براہِ راست نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

خطے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی عالمی طاقتوں کو ایک نئی مداخلت کی دعوت دے رہی ہے۔ تجزیہ نگار کے مطابق دنیا نظریوں اور عقیدوں میں الجھی ہوئی ہے جبکہ طاقت کو ان مسائل سے کوئی سروکار نہیں، کیونکہ جنگوں میں شہریوں کی آزادی نہیں بلکہ زندگی بنیادی سوال ہوتی ہے۔

جنگ کسی بھی معاشرے کے لیے نہ ختم ہونے والی تنگی اور ناپائیداری لے کر آتی ہے۔ امریکا جب افغانستان اور عراق گیا تو دعویٰ تو شہریوں کو ایک بہتر زندگی دینے کا تھا، مگر انجام یہ ہوا کہ جو کچھ ان کے پاس پہلے سے تھا، وہ بھی تباہ ہو گیا۔

جنگ کی قیمت ہر طبقے کو چکانی پڑتی ہے، چاہے وہ مذہبی طبقہ ہو یا لبرل، مگر نظریاتی ذہن اکثر اس مجموعی اثر سے غافل رہتا ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی عیاشی ہے۔

ایران کی مہسا امینی کے حقوق کا نوحہ تو پڑھا جاتا ہے، مگر جنگ کی ابتدائی لہر میں اپنی جان گنوانے والی معصوم بچیوں کے المیے پر خاموشی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

یہ بھی پڑھیں : روس اور چین ایران کے دفاع میں سامنے آ گئے، حملے فوری روکنے کا مطالبہ

جب زندگی کا چراغ ہی بجھ جائے تو حقوق یا پابندیوں کے سوال بے معنی ہو جاتے ہیں۔ نظریاتی سوچ انسان کو ان بنیادی حقائق سے دور کر دیتی ہے، جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

یہ ماننا کہ امریکا کو افغانستان میں شکست ہوئی، ایک بڑا فکری مغالطہ ہے۔ افغانستان کوئی ایسا خطہ نہیں تھا جو امریکا کا حصہ ہو، بلکہ یہ ایک بیس کیمپ تھا، جسے ایک نہ ایک دن اکھڑنا ہی تھا۔

طاقت کبھی بھی اپنا بیس کیمپ یکلخت خالی کر کے نہیں جاتی، بلکہ وہ پیچھے ایسے تنازعات کا بندوبست چھوڑ کر جاتی ہے جو اس کے مفادات کا تحفظ کرتے رہیں۔

فلسطین، پاک بھارت اور پاک افغان تنازعات اسی حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔ طالبان کو لایا نہیں گیا تھا، بلکہ انہیں باقاعدہ وہاں چھوڑا گیا تاکہ وہ خطے میں کسی بڑی تجارتی سرگرمی کے لیے رکاوٹ بنے رہیں۔

یہ تنازعات دراصل عالمی طاقتوں کے لیے مداخلت کا مستقل جواز فراہم کرتے ہیں۔ طالبان حکومت اس وقت ایک ایسے ڈرائیور کی طرح ہے جسے گاڑی تو دی گئی ہے، لیکن لائسنس جاری کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے، تاکہ وہ صرف دائرے میں گھومتا رہے اور تنازعات کی وجہ بنا رہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان نہ صرف ٹی ٹی پی کی حمایت کر رہے ہیں بلکہ ان کا اختیار کردہ اسلامائزڈ نیشنل ازم بھی ان دہشت گردوں کو تقویت دے رہا ہے۔

پاکستان چاہتا ہے کہ طالبان ٹی ٹی پی کو لگام ڈالیں، لیکن طالبان اس مطالبے کو دو وجوہات کی بنا پر ماننے سے گریزاں ہیں۔

اول یہ کہ ان کے اپنے پرانے لڑاکے اس پر سوال اٹھائیں گے کہ کیا انہوں نے قربانیاں اپنے ہی جیسے نظریاتی ساتھیوں کے خلاف اعلانِ برات کے لیے دی تھیں؟

دوم یہ کہ اگر طالبان نے ٹی ٹی پی کو روکا تو وہ ردعمل میں داعش کا حصہ بن سکتے ہیں، جس سے افغانستان کی داخلی سیکیورٹی مزید خطرے میں پڑ جائے گی۔

موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اس تمام تر تنازعے میں عالمی طاقتیں صرف تنازع کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہیں، تاکہ وہ اس خطے میں اپنے مفادات اور مداخلت کا جواز برقرار رکھ سکیں۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔