اتوار، 8-مارچ،2026
اتوار 1447/09/19هـ (08-03-2026م)

خلیجی ممالک کی کمزور رگ پانی کے پلانٹس پر ایران کا خاموش مگر خطرناک پیغام

08 مارچ, 2026 11:31

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کی توجہ تیل کی قیمتوں پر ہے لیکن اصل خطرہ خلیجی ممالک کے پانی کے پلانٹس کو لاحق ہے جن پر کروڑوں لوگوں کی زندگی کا انحصار ہے۔

جغرافیائی سیاست کے آزاد تجزیہ کار شناکا انسلم پریرا کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا کی توجہ تیل کی قیمتوں پر مرکوز ہے، مگر حقیقت میں سب سے اہم مسئلہ پانی کا ہے، جس پر بہت کم لوگ نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق دنیا کے دس سب سے بڑے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے پلانٹس میں سے آٹھ جزیرہ نما عرب کے ساحلوں پر واقع ہیں۔ یہ تنصیبات دنیا بھر میں تیار ہونے والے صاف کیے گئے پانی کا تقریباً ساٹھ فیصد فراہم کرتی ہیں اور ہر روز تقریباً دس کروڑ لوگ اسی پانی کو پینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

کویت اپنی پینے کے پانی کی تقریباً نوے فیصد ضرورت انہی پلانٹس سے پوری کرتا ہے، عمان میں یہ شرح چھیاسی فیصد جبکہ سعودی عرب میں ستر فیصد ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ پلانٹس بند ہو جائیں تو دنیا کے امیر ترین تیل پیدا کرنے والے ممالک بھی چند دنوں میں رہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

دو مارچ کو ایران کے ایک میزائل کے ملبے نے فجیرہ میں ایک بجلی گھر کو نقصان پہنچایا، جو دنیا کے بڑے پانی صاف کرنے والے پلانٹس میں سے ایک کو بجلی فراہم کرتا ہے۔

اسی طرح کویت کے دوحہ ویسٹ پاور اور پانی صاف کرنے والے کمپلیکس کے قریب میزائل روکنے کے دوران گرنے والے ٹکڑوں سے آگ لگ گئی۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کی اسرائیل اور امریکی اہداف پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش، 200 امریکی فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ

ان دونوں واقعات میں کوئی بھی پانی صاف کرنے والا پلانٹ براہ راست تباہ نہیں ہوا اور انہیں قریبی میزائل روکنے کی کارروائی کے نتیجے میں ہونے والا نقصان قرار دیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہی فرق اس پوری جنگ کا سب سے اہم اشارہ ہے جسے ابھی تک درست انداز میں نہیں سمجھا گیا۔

شناکا پریرا کے مطابق ایران کے پاس خلیج میں موجود ہر پانی صاف کرنے والے پلانٹ کے درست مقامات کی معلومات موجود ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے فجیرہ، کویت سٹی، ریاض، ابو ظہبی، دوحہ اور بحرین کے مختلف مقامات پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں تیل کی ریفائنریاں، فوجی اڈے، سفارت خانے اور بجلی گھر نشانہ بنے۔

لیکن ان حملوں میں ایک بھی پانی صاف کرنے والے پلانٹ کو براہ راست نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ کسی غلطی یا کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا پیغام ہے۔

ان کے مطابق ایران خلیجی ممالک کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ جب چاہے ان کے پانی کی فراہمی بند کر سکتا ہے، مگر ابھی اس نے ایسا نہیں کیا۔ بجلی گھر کو نقصان پہنچتا ہے مگر اس کے ساتھ موجود پانی صاف کرنے والا پلانٹ چلتا رہتا ہے، جو دراصل ایک واضح دھمکی ہے جو انتہائی درستگی کے ساتھ دی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کی فوج ایک ایسے دفاعی نظریے کے تحت کام کرتی ہے، جس میں ملک کے مختلف علاقوں میں خود مختار فوجی کمانڈز قائم کی گئی ہیں۔ ان کمانڈز کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ اگر مرکزی قیادت ختم بھی ہو جائے تو جنگ جاری رکھی جا سکے۔

تاریخ میں اس کی ایک مثال انیس سو اکیانوے کی خلیجی جنگ میں بھی ملتی ہے، جب عراق نے کویت کے پانی صاف کرنے والے نظام کو تیل سے آلودہ کر دیا تھا، جس کے بعد کویت کو ہنگامی طور پر سات سو پچاس پانی کے ٹینکر منگوانا پڑے تھے اور صورتحال معمول پر آنے میں کئی سال لگ گئے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں خلیجی ممالک اس ٹیکنالوجی پر پہلے سے کہیں زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ آبادی زیادہ ہے، پانی کی کھپت زیادہ ہے اور قدرتی میٹھے پانی کے ذرائع تقریباً موجود نہیں۔

اسی لیے تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کبھی ان پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا تو دنیا کے امیر ترین ممالک بھی اچانک انسانی بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔