ایرانی جنگ اور پاکستانی فضائی حدود کی بندش، انڈین ایئرلائنز شدید بحران کا شکار

فضائی حدود پر پابندیوں نے انڈین ایئرلائنز کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے پہلے ہی فضائی حدود بند کیے جانے کے بعد اب جنگی حالات کے باعث متبادل راستے محدود ہو گئے۔
ایران سے جاری جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے فضائی راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے انڈین ایئرلائنز کے لیے ایک اور بڑا بحران کھڑا کر دیا ہے۔
گزشتہ سال پاکستان نے کشیدگی کے بعد انڈین طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے بعد یہ علاقہ یورپ اور امریکہ جانے والی پروازوں کے لیے انڈیا کی ایئرلائنز کا اہم فضائی راستہ سمجھا جاتا تھا۔
موجودہ جنگی صورتحال کے باعث ایئرلائنز کو اپنی پروازوں کو دوبارہ ترتیب دینا پڑ رہا ہے اور کئی روٹس تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ انڈین ایئرلائنز کے پاس متبادل راستوں کے امکانات محدود ہیں کیونکہ پاکستان کے اوپر سے پرواز کی اجازت بھی موجود نہیں۔
اعدادوشمار فراہم کرنے والی کمپنی سیریم کے مطابق گزشتہ دس دنوں کے دوران انڈیا کی دو بڑی بین الاقوامی ایئرلائنز، ایئر انڈیا اور انڈیگو، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکہ کے لیے طے شدہ ایک ہزار دو سو تیس پروازوں میں سے تقریباً چونسٹھ فیصد پروازیں چلانے میں ناکام رہیں۔
ہوابازی کے ماہر امیت مِتّل کے مطابق بین الاقوامی پروازیں چلانے والی انڈین ایئرلائنز کے لیے یہ صورت حال دوہرے دھچکے کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف پاکستان کی فضائی حدود بند ہے جبکہ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ نے فضائی راستوں کو مزید محدود کر دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے ایک بین الاقوامی بینک نے بھی اپنی رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاسی کشیدگی انڈین ایئرلائنز کے اخراجات اور منافع دونوں پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔
بینک کے اندازے کے مطابق متاثرہ علاقوں کے لیے صرف سات دن کی پروازوں کی منسوخی سے ایئرلائنز کے سالانہ قبل از ٹیکس منافع کے تخمینے میں تقریباً ایک اعشاریہ دو فیصد کمی ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی اجازت سے روسی تیل کی خریداری، بھارت کی معاشی و خارجہ خود مختاری پر سوالیہ نشان
اگرچہ حالیہ دنوں میں کچھ پروازیں دوبارہ بحال کی گئی ہیں، تاہم انڈیگو ایئرلائن کو خاص مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ کمپنی یورپ کے لیے اپنی پروازیں چلانے کے لیے طویل فاصلے کے چھ بوئنگ طیاروں پر انحصار کرتی ہے جو نورس اٹلانٹک ایئرویز سے لیز پر لیے گئے ہیں۔
چونکہ ان طیاروں کی رجسٹریشن ناروے میں ہے اس لیے انہیں یورپی فضائی تحفظ کے ادارے کی ہدایات پر عمل کرنا پڑتا ہے، جس کے تحت ایران، عراق، اسرائیل، کویت، لبنان، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی فضائی حدود سے گریز کرنے کا کہا گیا ہے۔
اسی وجہ سے انڈیگو کو بعض پروازوں کے لیے افریقہ کے راستے طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے کئی پروازوں کا دورانیہ دو گھنٹے تک بڑھ گیا ہے۔
مشکلات کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ ایک ذریعے کے مطابق اتوار کے روز دہلی سے مانچسٹر جانے والی انڈیگو کی پرواز تیرہ گھنٹے فضاء میں رہنے کے بعد واپس دہلی لوٹ آئی کیونکہ افریقی ملک اریٹیریا کے فضائی ٹریفک کنٹرول نے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔
انڈیگو کے مطابق یہ صورتحال آخری لمحے میں فضائی حدود پر عائد پابندیوں کے باعث پیدا ہوئی۔ اسی طرح لندن سے ممبئی جانے والی انڈیگو کی ایک اور بوئنگ پرواز کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اسے قاہرہ کی جانب موڑنا پڑا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نے انڈیگو کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس سے پہلے دسمبر میں ایک آپریشنل بحران کے بعد کمپنی کو عوام اور حکومت دونوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اسی ہفتے کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر پیٹر ایلبرز مستعفیٰ ہوئے۔
دوسری جانب ایئر انڈیا نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے تنازع کے دوران بڑھتی ہوئی طلب کو دیکھتے ہوئے وہ آئندہ ہفتے انڈیا سے یورپ اور امریکہ کے درمیان اٹھہتر اضافی پروازیں چلائے گی۔ تاہم نئے راستوں کے باعث کئی پروازوں کا دورانیہ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔
مثال کے طور پر دہلی سے نیویارک جانے والی ایک پرواز کو روم میں قیام کرنا پڑا، جس کے باعث سفر کا دورانیہ تقریباً بائیس گھنٹے ہو گیا۔ جنگ سے پہلے یہی پرواز عراق اور ترکی کے راستے تقریباً سترہ گھنٹوں میں بغیر کسی توقف کے امریکہ پہنچ جاتی تھی۔
اس کے مقابلے میں امریکی ایئرلائنز کی پروازیں پاکستان کے راستے تقریباً سولہ گھنٹوں میں منزل تک پہنچ رہی ہیں، جس سے انڈین ایئرلائنز کو مسابقتی دباؤ کا سامنا ہے۔
ایئر انڈیا پہلے ہی اندازہ لگا چکی ہے کہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث اسے سالانہ تقریباً چھ سو ملین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ گزشتہ سال اس کمپنی کو تقریباً چار سو تینتیس ملین ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ماہرین کے مطابق طویل پروازوں سے ایندھن کی کھپت میں اضافہ ہو گا جبکہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ایئرلائنز کے توانائی اخراجات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










