ایران کا جارحانہ جوابی وار، عالمی توانائی بحران سے فائدہ اٹھانے کیلئے روس متحرک

ایران جنگ نے دنیا کے فیصلوں کو تبدیل کرنے پر مجبور کردیا ہے، توقع سے کہیں زیادہ ایران کے جواب نے امریکیوں کو پریشان کر رکھا ہے اور وہ اس جنگ سے نکلنے کا سوچ رہے ہیں، عالمی توانائی بحران بڑھتا جا رہا ہے، جس سے روس بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
میاں آصف کے تجزیے کے مطابق عالمی توانائی کی صورتحال میں ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے نو مارچ کو ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو سے قبل اپنے اعلیٰ حکام کے ایک اجلاس کی صدارت کی۔
اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یورپ کو روسی توانائی کی فروخت پر مکمل پابندی کا اعلان کیا جانا چاہیے۔ یہ فیصلہ یورپی یونین کے اس ارادے کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس کے تحت یورپ نے سن دو ہزار ستائیس تک روس سے انرجی کی خریداری مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔
تاہم، پیوٹن کا مؤقف ہے کہ یورپی فیصلے پر عمل درآمد کے انتظار کے بجائے روس خود اس عمل کو تیز کرے۔ روسی صدر نے اس اقدام کو روکنے کے لیے ایک سخت شرط عائد کی ہے کہ یورپ روس کے ساتھ توانائی کی خریداری کے طویل المدتی معاہدے کرے اور ان معاہدوں کو کسی بھی قسم کے سیاسی یا سفارتی تنازعات سے بالاتر رکھے۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں ایک نئی حکمت عملی اختیار کی ہے، جس میں فوجی اہداف سے زیادہ معاشی اور توانائی کی صورتحال کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
ٹرمپ اور پیوٹن کے رابطوں کو روسی مشیروں کی جانب سے مثبت قرار دیا گیا ہے، لیکن روسی میڈیا میں یہ خدشات بھی گردش کر رہے ہیں کہ امریکا پر مکمل اعتبار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہی امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی نظام ٹوٹ چکا، پاکستان اور ایران نئی طاقتیں بنیں گے، مشاہد حسین
ایران کی جانب سے جنگ کو طول دینے کے اشارے مل رہے ہیں اور ایسی اطلاعات ہیں کہ تیل کی قیمتیں دو سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔
ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکا ایران میں اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور اب وہاں مزید حملے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
دوسری طرف ایران کی جانب سے اس تمام کشیدگی کا مقصد بظاہر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ امریکی حفاظتی چھتری سے باہر نکلنے کا فیصلہ کر سکیں۔
اس صورتحال کے پس منظر میں ایک اہم پیش رفت امریکی سیکریٹری خارجہ کا وہ بیان ہے، جس میں انہوں نے افغانستان کو دہشت گردی کو بطور آلہ کار استعمال کرنے والا ملک قرار دیا ہے اور سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران محاذ سے توجہ ہٹانے کے لیے امریکا جاتے جاتے افغانستان میں طالبان قیادت کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ کابل میں اس وقت سفارتی سرگرمیوں کا ایک سلسلہ جاری ہے، جس میں چین کی کوششیں، پاکستان کے سابق عسکری کمانڈروں کا دورہ اور دیگر سیاسی رابطے شامل ہیں۔
ان رابطوں میں ایک خاص قسم کی تقسیم اور سلیکشن دیکھی جا رہی ہے، جہاں کچھ قوتیں قندھار تو کچھ کابل کے سیٹ اپ یا حقانی نیٹ ورک سے الگ الگ بات کر رہی ہیں۔ یہ پیش رفت افغانستان کے مستقبل کے سیاسی ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں کا اشارہ ہو سکتی ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










