منگل، 17-مارچ،2026
منگل 1447/09/28هـ (17-03-2026م)

نیو ورلڈ آرڈر کا تابوت تیار! اب دنیا پر واشنگٹن کی نہیں بلکہ نئے بلاک کی حکمرانی ہوگی

17 مارچ, 2026 14:02

تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان

28 فروری 2026 کی تاریخ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں ایک ایسے موڑ کے طور پر درج ہو چکی ہے، جس نے عالمی سیاست کے تمام فرسودہ تصورات کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔

واشنگٹن اور تل ابیب میں بیٹھے پالیسی سازوں کا گمان تھا کہ یہ جنگ مختصر اور فیصلہ کن ہوگی، لیکن تین ہفتوں کی اس ہولناک لڑائی نے ثابت کر دیا ہے کہ صرف جدید ٹیکنالوجی ہی برتری کی ضمانت نہیں ہوتی۔

دھند کے اس پار وہ حقائق پوشیدہ ہیں جو عالمی میڈیا کی ہیڈ لائنز سے غائب ہیں۔ اس کے تزویراتی پہلوؤں نے مغربی طاقتوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ اس ٹائیگر سے کیسے اتریں، جس پر وہ بڑی ہمت سے سوار ہوئے تھے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جنگی حکمتِ عملی کا ایک بڑا ستون یہ مفروضہ تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی وفات ملک میں اقتدار کی جنگ اور داخلی انتشار کا باعث بنے گی۔ تاہم، نتائج اس کے بالکل برعکس نکلے۔ بیرونی حملے نے ایرانی قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا۔

ایرانی سیاسی نظام نے نہ صرف تیزی سے خود کو منظم کیا بلکہ قوم پرستی کے اس جذبے کو مہمیز دی جو بیرونی جارحیت کے نتیجے میں ابھرتا ہے۔

ایرانی سیاسی نظام نے مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں خود کو غیر معمولی تیزی سے مستحکم کر لیا ہے، اب باپ اپنے بیٹے کے ذریعے زندہ ہے۔ قوم پرستی کے اس ابھار نے داخلی ہم آہنگی کو اس سطح پر پہنچا دیا ہے، جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

مغربی عسکری ماہرین نے ایران کی میزائل صلاحیتوں اور اس کی زیرِ زمین محفوظ تنصیبات کو حد سے زیادہ کم سمجھا۔ سب سے حیران کن تکنیکی انکشاف ایران کا مغربی جی پی ایس کے بجائے چین کے بیڈو نیویگیشن سسٹم کا استعمال ہے۔

30 سے زائد سیٹلائٹس پر مشتمل چینی سسٹم نے ایران کو کِل سوئچ (Kill Switch) کے خطرے سے نجات دلا دی ہے، جو مغربی جی پی ایس کا خاصہ ہے۔

ایران نے بیک وقت سینکڑوں میزائل داغنے کی حکمتِ عملی اپنائی، جس سے مغربی دفاعی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا اور بمباری کے باوجود ایرانی جوابی کارروائی کا تسلسل برقرار رہا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ کے دو ہفتے مکمل، ٹرمپ کو مشکل فیصلوں کا سامنا، ایک غلط قدم اور طویل بحران!

ایران نے جیو اکنامک محاذ پر بھی کاری ضرب لگائی ہے۔ امریکی فضائیہ نے جب ایران کے آئل ہب خارگ آئی لینڈ کو نشانہ بنایا، تو ایران نے جواباً سعودی عرب میں موجود امریکی اڈوں پر طیاروں کو تباہ کر کے واضح پیغام دیا۔

حیران کن طور پر، سی آئی اے اور موساد کی جانب سے سعودی ریفائنریوں اور ترکی پر کئے گئے فالس فلیگ آپریشنز بھی ناکام رہے، جن کا مقصد ان ممالک کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلنا تھا۔ ایران نے اب تیل کی ادائیگی ڈالر کے بجائے چینی یوآن میں قبول کرنے کا اعلان کر کے ڈالر کی عالمی بالادستی کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ اس پر مستزاد، باب المندب اور آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی نے عالمی معیشت کو معذور کرنے کا سامان پیدا کر دیا ہے۔

امریکہ کا یہ منصوبہ کہ وہ ایران کے اندر کُرد، بلوچ، بادشاہت پسند اور یزیدی گروہوں کو اکسا کر داخلی محاذ کھولے گا، بری طرح ناکام ہوا۔ ان گروہوں نے امریکی مہرہ بننے سے صاف انکار کر دیا، کیونکہ انہوں نے ماضی سے سبق حاصل کیا ہے۔ مثلاء لیبیا، عراق اور شام میں امریکہ نے اپنے مقامی اتحادیوں کو ضرورت پوری ہونے کے بعد بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔

ان گروہوں نے بھانپ لیا کہ امریکی امداد صرف ریاست کی تباہی کا ذریعہ بنتی ہے، استحکام کا نہیں۔ بیرونی حملے کے وقت داخلی اختلافات کے باوجود ان گروہوں نے ایرانی ریاست کے دفاع کو ترجیح دی۔

یہ جنگ یک قطبی دنیا کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو رہی ہے۔ ابھرتے ہوئے نئے عالمی نظام کی بنیاد ان اقدار پر ہے، جو مغربی تسلط کو چیلنج کرتی ہیں۔ نئے نظام میں کسی بھی ریاست کو یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ اپنا نظریہ دوسرے ممالک پر زبردستی مسلط کرے۔ ڈالر پر انحصار ختم کر کے مقامی کرنسیوں اور برکس بینک کے فروغ کی کوشش اوریہ جنگ اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے حالیہ معاہدوں ابراہام اکارڈز کو شدید تنقید کی زد میں لے آئی ہے اور آزاد فلسطین کے مطالبے کو نئی زندگی ملی ہے۔

ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی یکطرفہ جنگ بندی پر راضی نہیں ہوگا۔ اس نے تین بنیادی مطالبات پیش کئے ہیں۔ ایک یہ کہ ایران کے خود مختار حقوق اور تزویراتی حدود کا مکمل احترام کیا جائے۔ دوسرا اس جنگ میں ہونے والے نقصانات کا مکمل مالی معاوضہ دیا جائے۔ تیسرے فریق یعنی عالمی طاقتوں کی جانب سے یہ ضمانت دی جائے کہ مستقبل میں دوبارہ ایسی جارحیت نہیں ہوگی۔

موجودہ حالات میں پاکستان کی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کو ایک نئے ویسٹ ایشیاء سیکیورٹی ریجن کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے، جس میں سعودی عرب، ایران، ترکی اور پاکستان شامل ہوں، جبکہ روس اور چین اس کے پشت پناہ ہوں۔

خلیج کی بندرگاہوں پر حملوں کے بعد گوادر کی تزویراتی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔ ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے خلاف پاکستان کی موجودہ سخت پالیسی نتائج دے رہی ہے، جسے جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔

مشرقِ وسطیٰ کی یہ جنگ جارج بش کے اس نیو ورلڈ آرڈر کے لیے ایک عبرت ناک انجام ثابت ہو رہی ہے، جس کا ذکر انہوں نے برسوں پہلے کیا تھا۔ بش نے کہا تھا کہ دنیا کو اس موقع (خلیج بحران) سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نیو ورلڈ آرڈر کے وعدے کو پورا کرنا چاہیے۔ لیکن آج کی حقیقت یہ ہے کہ وہی نیو ورلڈ آرڈر اب بکھر رہا ہے اور اس کی جگہ ایک ایسا کثیر قطبی نظام لے رہا ہے جہاں طاقت کا مرکز صرف واشنگٹن نہیں رہا۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔