منگل، 17-مارچ،2026
منگل 1447/09/28هـ (17-03-2026م)

مشرقِ وسطیٰ کے نقشے میں مستقل تبدیلی کا خدشہ، ایران کو مٹانے کا عہد دنیا کو تباہ کر دے گا

17 مارچ, 2026 14:02

تجزیہ کار : اعجاز حیدر

ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی فوجی جارحیت اس وقت عالمی منظرنامے کی سب سے بڑی سرخی ہے، لیکن یہ محض خبروں کا ایک سلسلہ نہیں بلکہ ایک ایسا پیچیدہ اسٹریجٹک معمہ ہے، جو مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو مستقل طور پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بحیثیت تجزیہ کار، ہمیں اس جنگ کی تہوں میں چھپے ان حقائق کو سمجھنا ہوگا جو سطحی رپورٹنگ میں نظر نہیں آتے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ بمباری کہاں ہو رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس خونی کھیل کا حتمی مقصد کیا ہے؟ کیا یہ محض ایک فوجی آپریشن ہے یا تزویراتی ہوس کا وہ شاخسانہ جو پورے خطے کو نگلنے والا ہے؟

اس جنگ کی بنیاد ایک ایسی فریب کاری پر رکھی گئی ہے جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ حقائق گواہی دیتے ہیں کہ جب امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھا تھا، پسِ پردہ جنگ کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کیے جا رہے تھے۔ یہ بالکل ویسا ہی دھوکہ ہے جیسا اسرائیل نے 13 جون 2025 کو اپنی جارحیت کے دوران کیا تھا۔

نیویارک ٹائمز کی 3 مارچ 2026 کی تفصیلی رپورٹ ’ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کا فیصلہ کیسے کیا‘ واضح کرتی ہے کہ نیتن یاہو نے دسمبر 2025 میں ہی مار-اے-لاگو کے دورے میں اس جنگ کے لیے لابنگ مکمل کر لی تھی۔

11 فروری 2026 کو وائٹ ہاؤس کے اجلاس میں حملے کی تاریخیں تک طے کر لی گئی تھیں۔ ٹرمپ کا اسے اپنا وینزویلا لمحہ سمجھنا اور یہ احمقانہ دعویٰ کرنا کہ وہ ایران کا اگلا لیڈر خود چنیں گے، ان کے تزویراتی تکبر کی انتہاء ہے۔

یہ جنگ اتنی ہی مکروہ اور فریبی ہے جتنی پچھلی جارحیت تھی۔ ولیم شیکسپیئر کے الفاظ میں، شیطان اپنے مذموم مقاصد کے لیے مقدس کتابوں کے حوالے دے رہا ہے۔

اس تنازعے کا سب سے خوفناک پہلو اس میں شامل مذہبی جنونیت ہے۔ امریکی اور اسرائیلی قیادت اس جنگ کو کسی جدید ریاست کے تنازعے کے بجائے ایک مقدس جنگ کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

اس آپریشن کا ابتدائی نام آپریشن شیلڈ آف جوڈا بائبلی تھا، جسے بعد میں امریکیوں نے آپریشن ایپک فیوری اور اسرائیل نے رائزنگ لائن کا نام دیا۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کھلے عام بائبلی حکمت کا حوالہ دیا، جبکہ مائیک ہکابی کا یہ ماننا کہ فلسطین پر یہودیوں کا حق ایک بائبلی دستاویز ہے، اس جارحیت کو مذہبی جواز فراہم کرتا ہے۔ نیتن یاہو نے ایرانیوں کے لیے عمالقہ کی اصطلاح استعمال کی، جو بائبل کے مطابق ایک ایسا گروہ تھا، جس کا نام و نشان مٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کی 57 ویں جوابی لہر، ننھے شہید کے نام، بیلسٹک میزائلوں کا دشمن کے اہداف پر قہر

5 مارچ 2026 کو وائٹ ہاؤس میں منعقدہ دعائیہ تقریب، جہاں ٹرمپ پر ہاتھ رکھ کر یسوع مسیح کے نام پر تحفظ مانگا گیا، اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کسی سمجھوتے کی گنجائش نہیں، کیونکہ مذہبی جنگوں میں کوئی درمیانی راستہ نہیں ہوتا۔

ایران نے روایتی فوجی برتری کا مقابلہ کرنے کے لیے افقی پھیلاؤ کی کاٹ ڈھونڈ لی ہے۔ اس کا مقصد جنگ کو صرف اپنے گھر تک محدود رکھنے کے بجائے اسے پورے خطے اور عالمی معیشت تک پھیلانا ہے۔

ایران نے امریکی تنصیبات کو براہِ راست ہدف بنایا ہے، جن میں قطر کے العدید ایئر بیس، کویت کے علی السالم بیس، متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ایئر بیس اور بحرین کے امریکی پانچویں بیڑے کا ہیڈ کوارٹر شامل ہے۔

اس حکمت عملی کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچانا ہے۔ دوسری جانب، اسرائیل دہیہ نظریہ پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت شہری ڈھانچے پر غیر متناسب طاقت کا استعمال کر کے دہشت پھیلائی جاتی ہے۔

میناب میں لڑکیوں کے اسکول پر بمباری، جس میں 160 طالبات شہید ہوئیں، اور اسپتالوں و پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو نشانہ بنانا اسی وحشیانہ نظریے کا حصہ ہے۔

کلاسک اسٹریٹجک مفکرین جیسے مارک کلاڈ فیلٹر اور کولن گرے کے نظریات کی روشنی میں دیکھا جائے تو امریکی فضائی طاقت اپنے اہداف کے حصول میں ہانپ رہی ہے۔ کولن گرے کے مطابق محض فضائی بمباری کبھی بھی زمین اور عوام پر قبضے کا متبادل نہیں ہو سکتی۔

امریکہ اور اسرائیل نے اگرچہ قیادت کی بیخ کنی کے ذریعے ابتدائی کامیابی حاصل کی، لیکن ایران نے اپنی طاقت کو منتشر کرنے اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے ذریعے اس کا توڑ کر لیا ہے۔

یہ فضاؤں میں کھیلی جانے والی بلی اور چوہے کی وہ جنگ ہے، جہاں قابض طاقتیں آسمان پر تو چھائی ہوئی ہیں، لیکن زمین پر موجود میزائل شہروں اور متحرک لانچرز کو روکنے میں مکمل ناکام ہیں۔

خلیجی ریاستیں اس وقت ایک فوسٹیئن سودے کا شکار ہو چکی ہیں، جہاں انہوں نے اپنی سلامتی کے عوض اپنی روح کا سودا کیا۔ ان ممالک نے ایران کے خوف میں اسرائیل اور امریکہ سے پناہ مانگی، لیکن اب وہی سیکورٹی چھتری ان کے اپنے معاشی اور سیاحتی ماڈل کو تباہ کر رہی ہے۔

اردو محاورے کے مطابق ان ریاستوں کی حالت دھوبی کے کتے جیسی ہو چکی ہے، جو نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔ دوحہ پر ہونے والے حملے کے بعد پیدا ہونے والا پچھتاوا اس بات کی گواہی ہے کہ وہ یہ موقع گنوا چکے ہیں۔

امریکی ترجیح ہمیشہ اسرائیل رہے گا، خلیجی ریاستیں نہیں۔ میناب کے اسکول کی تباہی اور خطے میں سرمایہ کاری کا فرار اس سودے کی وہ قیمت ہے جو اب انہیں چکانی پڑ رہی ہے۔

موجودہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ کو تین میں سے کسی ایک راستے پر لے جا سکتی ہے۔ ایک طویل مدتی تھکا دینے والی جنگ ہے، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کے وسائل کو بتدریج ختم کریں گے۔ دوسری چین اور روس کے دباؤ پر ایک عارضی اور کھوکھلی جنگ بندی ممکن ہے اور تیسرا علاقائی آتش فشاں، یہ سب سے خطرناک منظرنامہ ہے، جو کسی ایرانی کامیابی (مثلاً کسی امریکی جنگی جہاز کے ڈوبنے یا آبنائے ہرمز کی مکمل بندش) کی صورت میں بھڑک سکتا ہے۔ یہ صورتحال عالمی معیشت کو تباہ اور خطے کو دہائیوں پیچھے دھکیل دے گی۔

وقت آ گیا ہے کہ خلیجی ریاستیں ادراک کریں کہ خطے کا واحد حل ایک ایسا ری سیٹ ہے، جس میں ایران کو نکالنے کے بجائے اسے ایک اجتماعی سیکورٹی فریم ورک کا حصہ بنایا جائے۔ کیا وہ اسرائیل کی علاقائی بالادستی کا ایندھن بنتی رہیں گی یا اپنی بقاء کے لیے نیا راستہ چنیں گی؟ فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔