پیر، 23-مارچ،2026
پیر 1447/10/04هـ (23-03-2026م)

مہنگی مغربی ٹیکنالوجی ایران کے سستے ہتھیاروں کے سامنے بے بس

23 مارچ, 2026 12:00

تجزیہ: مہتاب عزیز

گزشتہ دنوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے دفاعی منظرنامے میں ایک ایسی تبدیلی رونما ہوئی ہے، جس نے دہائیوں سے قائم طاقت کے توازن کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایران کی جانب سے اسرائیل کے انتہائی حساس مرکز، شمعون پیریز نیگیو ایٹمی تحقیقی مرکز جسے دنیا ڈیمونا ایٹمی ری ایکٹر کے نام سے جانتی ہے، پر آواز کی رفتار سے تیز یعنی ہائپر سونک میزائلوں سے براہ راست حملہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

اس حملے کے نتیجے میں اس ایٹمی کمپلیکس کی ایک اہم عمارت کی تباہی اور وہاں موجود افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق خود اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے کی ہے۔

یہ واقعہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ اس اسرائیلی برتری کے خاتمے کا اعلان ہے، جسے برسوں سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا رہا ہے۔

ڈیمونا اسرائیل کی جوہری طاقت کا وہ محور ہے، جس کی حفاظت کے لیے دنیا کا جدید ترین دفاعی حصار قائم کیا گیا تھا، مگر اس حصار کا ٹوٹنا خطے میں نئے دفاعی حقائق کو جنم دے رہا ہے۔

اس صورتحال کا دوسرا اہم رخ بحرِ ہند میں واقع امریکہ اور برطانیہ کے کلیدی فوجی اڈے ڈیگو گارشیا پر ایرانی میزائلوں کی یلغار ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ڈیمونا پر حملہ ایران کے منظم کمانڈ سسٹم کا ثبوت ہے، ماہرین

اگرچہ وہاں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات محدود ہیں، تاہم ایران کا چار ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہدف کو درستگی سے نشانہ بنانا، مغربی طاقتوں کے لیے ایک سنگین تزویراتی دھچکا ہے۔

اس سے قبل ایرانی میزائلوں کی حدِ پرواز دو ہزار کلومیٹر تک محدود سمجھی جاتی تھی، جو سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی طے کردہ حکمتِ عملی کا حصہ تھی۔

اب اس حد کے خاتمے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کی عسکری پہنچ کو وسعت دے دی ہے، جس کی زد میں اب نہ صرف اسرائیل بلکہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت پورا براعظم یورپ آچکا ہے۔

یہ پیش رفت اس سوال کو بھی جنم دے رہی ہے کہ کیا ایران نے اب جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر عائد پرانی مذہبی پابندیوں کو بھی ختم کر دیا ہے۔

فضائی جنگ کے میدان میں بھی امریکہ کو شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں اس کے جدید ترین اور ریڈار کی نظروں سے اوجھل رہنے والے ایف پینتیس طیاروں کو ایرانی فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا ہے۔

امریکہ کی جانب سے ان طیاروں کی تباہی کی تصدیق اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران اب ایسی جدید ریڈار ٹیکنالوجی کا حامل ہو چکا ہے، جو دنیا کے مہنگے ترین اور خفیہ ترین طیاروں کو بھی ناکارہ بنا سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے پاس دفاعی میزائلوں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے وہ اب صرف مخصوص مقامات کی حفاظت کے قابل رہ گئے ہیں، جبکہ شہری اور فوجی مراکز حزب اللہ اور ایران کے لیے آسان ہدف بن چکے ہیں۔ یہ صورتحال ایک ایسی طویل جنگ کی جانب اشارہ کر رہی ہے، جہاں مہنگی مغربی ٹیکنالوجی ایران کے سستے مگر موثر ہتھیاروں کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔