قطر سے سستی ایل این جی کی فراہمی معطل ہونے کا خدشہ

قطر کے راس لفان گیس فیلڈ پر ایرانی حملے نے عالمی توانائی کی منڈی میں ایک ایسا بھونچال پیدا کر دیا ہے، جس کے اثرات کئی برسوں تک محسوس کئے جائیں گے۔
اس حملے کے نتیجے میں قطر کی گیس پیدا کرنے کی سترہ فیصد صلاحیت اگلے تین سے پانچ سال کے لیے مفلوج ہو گئی ہے، جس کی بحالی پر پچیس ارب ڈالر سے زائد کی لاگت اور سالانہ بیس ارب ڈالر کا مالی خسارہ متوقع ہے۔
عالمی سطح پر مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی فراہمی میں پانچ فیصد کمی سے قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ یقینی ہے۔ لیکن پاکستان کے لیے یہ صورتحال محض ایک عالمی بحران نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی چیلنج ہے، کیونکہ ملک کی پچاس سے ساٹھ فیصد گیس کی ضروریات قطر کے ساتھ کئے گئے طویل مدتی اور سستے معاہدوں سے وابستہ ہیں۔
اس حملے کے بعد اس بات کا قوی امکان ہے کہ قطر "غیر متوقع حالات یا جانی و مالی نقصان” سے متعلق قانونی شق کا سہارا لیتے ہوئے، پاکستان کو سستی گیس کی فراہمی بند کر دے اور اسے عالمی منڈی کی موجودہ مہنگی قیمتوں پر گیس خریدنے پر مجبور کرے۔
یہ بھی پڑھیں : گیس اور تیل تنصیبات پر ایرانی حملے اشتعال انگیزی ہے، متحدہ عرب امارات
ایسی صورت میں پاکستان کو سالانہ ایک سے دو ارب ڈالر کی اضافی رقم ادا کرنی پڑے گی، جو ملک کے پہلے سے کمزور زرِ مبادلہ کے ذخائر پر ایک بھاری بوجھ ہوگا۔
اس کا براہِ راست اثر ملک میں بجلی کی قیمتوں اور کھاد کی صنعت پر پڑے گا، جس سے زراعت کی پیداواری لاگت بڑھے گی اور ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا۔ صنعتوں سے لے کر گھریلو صارفین تک سب کو گیس کی قلت اور لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس بحران سے نمٹنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی کرنسی کی قدر کو مستحکم کرے اور توانائی کے لیے درآمدی گیس پر انحصار کم کرنے کی خاطر شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دے۔
گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کی جگہ متبادل ذرائع کو ترجیح دینا اب محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔
آنے والا وقت معاشی طور پر انتہائی کٹھن ثابت ہو سکتا ہے، جس کے لیے قومی سطح پر ذہنی تیاری اور سخت فیصلوں کی ضرورت ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










