ہفتہ، 29-نومبر،2025
ہفتہ 1447/06/08هـ (29-11-2025م)

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اہم خبر آگئی

04 مارچ, 2025 15:10

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اہم خبر آگئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 26 سینٹ یا 0.4 فیصد کم ہوکر 68.11 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔

فلپ نووا کے اجناس کے اسٹریٹجسٹ ڈیرن لیم کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں جاری کمی بنیادی طور پر اوپیک پلس کے پیداوار بڑھانے کے فیصلے اور امریکی محصولات کے نفاذ کی وجہ سے ہے، روس-یوکرین تنازع سے متعلق جغرافیائی سیاسی حالات بھی ایک پیچیدہ عنصر بن رہے ہیں۔

تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اس کے اتحادی، جن میں روس بھی شامل ہے اور جنہیں مشترکہ طور پر اوپیک پلس کہا جاتا ہے، نے اپریل میں تیل کی پیداوار میں روزانہ ایک لاکھ 38 ہزار بیرل اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اضافہ 2022 کے بعد پہلی بار ہوگا۔

ڈیرن لیم کے مطابق اگرچہ اس فیصلے کا مقصد پیداوار میں پچھلی کٹوتیوں کو آہستہ آہستہ ختم کرنا ہے، لیکن اس سے مارکیٹ میں ممکنہ حد سے زیادہ سپلائی کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف آج سے لاگو ہو رہا ہے، جبکہ کینیڈین توانائی پر 10 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔ اسی طرح چینی مصنوعات پر محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کر دیے گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان محصولات سے معاشی سرگرمیوں اور ایندھن کی طلب پر اثر پڑے گا، جس سے تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوگا۔

ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے لیے فوجی امداد کی معطلی نے بھی تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے، کیونکہ مارکیٹ نے وائٹ ہاؤس اور یوکرین کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو تنازع میں ممکنہ نرمی کی علامت کے طور پر دیکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں روس کے لیے پابندیوں میں نرمی کی توقع ہے، جس سے مارکیٹ میں تیل کی سپلائی بڑھ سکتی ہے۔

گولڈمین ساکس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کی تیل کی سپلائی پر پابندیوں سے زیادہ، اوپیک پلس کے پیداوار کے ہدف کی وجہ سے دباؤ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پابندیوں میں نرمی سے روس کی تیل کی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع نہیں ہے۔

Catch all the معیشت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔