ہفتہ، 29-نومبر،2025
ہفتہ 1447/06/08هـ (29-11-2025م)

ایس آئی ایف سی کی معاونت سے خصوصی اقتصادی زونز کے ذریعے صنعتی شعبے کی ترقی

07 مارچ, 2025 07:42

ایس آئی ایف سی کی معاونت سے خصوصی اقتصادی زونز کے ذریعے صنعتی شعبے کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حکومت پاکستان نے ملکی معیشت کو مستحکم بنانے اور صنعتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے خصوصی اقتصادی زونز کے قیام اور توسیع کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کر لیا ہے۔

اس سلسلے میں بورڈ آف انویسٹمنٹ اور متحدہ عرب امارات کے انٹرنیشنل فری زونز اتھارٹی کے درمیان موجودہ خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو خطے میں سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم ترین ملک تسلیم کیا گیا ہے۔ یو اے ای کے وفد نے پاکستان میں اقتصادی استحکام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز کی صلاحیت سے استفادہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

حکومت پاکستان نے خصوصی اقتصادی زونز کے ذریعے برآمدات میں اضافہ، تجارتی خسارے میں کمی اور اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جدید اور موزوں قومی فریم ورک تیار کیا ہے۔ اس فریم ورک کا بنیادی مقصد خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی و توسیع کے لیے یکساں پالیسیوں، ضوابط اور ترغیبات کو یقینی بنانا ہے۔

خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاروں کو مکمل معاونت فراہم کرنے کے لیے کاروباری سہولت مراکز قائم کیے جائیں گے، جو سرمایہ کاروں کو تمام ضروری سہولیات اور معلومات فراہم کریں گے۔ یہ اقدام سرمایہ کاری کے عمل کو آسان اور تیز تر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ایس آئی ایف سی کی معاونت سے حکومت کارپوریٹ ماڈلز کے ذریعے صنعتی شعبے کی کارکردگی اور احتساب کو بہتر بنانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ اس کے علاوہ، خصوصی اقتصادی زونز ایکٹ کے تحت زمین کی قیمتوں کی ادائیگی کے لیے آسان قسطوں کے اختیارات دیے گئے ہیں، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے۔

ایس آئی ایف سی کے تعاون سے صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ اور ترقی کے لیے یہ تمام اقدامات نہ صرف قابل ستائش ہیں۔

Catch all the معیشت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔