بھارتی حکومت کے دباؤ پر اداکار نصیرالدین شاہ کا طلباء سے خطاب آخری وقت میں منسوخ

بھارت میں مذہب اور زبان کے باہمی تعلق پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی، جب معروف اداکار نصیرالدین شاہ کو ممبئی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کی تقریب میں مدعو کرنے کے بعد اچانک شرکت سے روک دیا گیا۔ یہ تقریب یکم فروری کو جشنِ اردو کے عنوان سے منعقد ہونا تھی اور اداکار طلبہ سے خطاب کی تیاری کر رہے تھے۔
تقریب سے ایک رات پہلے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے انہیں اطلاع دی گئی کہ اب ان کی شرکت درکار نہیں رہی۔ اس اچانک فیصلے پر نہ تو معذرت کی گئی اور نہ ہی واضح وجہ بتائی گئی۔ بعد ازاں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ گویا نصیرالدین شاہ نے خود شرکت سے انکار کیا تھا۔
نصیرالدین شاہ نے اس صورتِ حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنا مؤقف انڈین ایکسپریس میں تحریری طور پر پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کی جانب سے حقیقت بیان نہ کرنے پر انہیں کوئی حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ اصل وجہ یہ تھی کہ وہ ملک کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ کبھی خود ساختہ “وشوا گرو” کے بیانیے سے متاثر نہیں ہوئے اور ہمیشہ حکمرانوں کے اقدامات پر تنقید کرتے آئے ہیں۔ ان کے مطابق وہ ملک میں شہری شعور کی کمی اور بعض معاملات میں انصاف کے دوہرے معیار پر مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے کئی مسائل کے بارے میں آواز اٹھائی ہے، کیونکہ یہ وہ عمل ہیں، جو مجھ جیسے لوگوں کو اس سمت کے بارے میں پریشان کرتی ہیں جہاں ہم بظاہر جا رہے ہیں، جہاں طالب علم کارکنوں کو برسوں تک بغیر کسی مقدمے کے حراست میں رکھا جاتا ہے، لیکن سزا یافتہ عصمت دری کرنے والوں یا قاتلوں کو اکثر ضمانت مل جاتی ہے، جہاں گاؤ کے رکھوالوں کو معذور اور قتل کرنے والوں پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔
نصیرالدین شاہ نے کہا کہ یہ وہ ملک نہیں رہا جس میں وہ پلے بڑھے تھے۔ ان کے مطابق نفرت کے مختصر لمحات اب مسلسل فضا کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا موجودہ صورتحال کو جارج آرویل کے ناول “1984” سے تشبیہ دینا بے جا ہوگا، جہاں حکمران کی تعریف نہ کرنا بغاوت سمجھا جاتا ہے۔
Catch all the انٹرٹینمنٹ News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












