نِپاہ وائرس بنگلہ دیش میں ایک خاتون کی جان لے گیا، عالمی ادارۂ صحت کی تصدیق

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے رپورٹ کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں نِپاہ وائرس سے متاثر ایک مریضہ اسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد انتقال کر گئی۔
ڈبلیو ایچ او کے بیان کے مطابق مریضہ کو 28 جنوری کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جہاں ٹیسٹ کے ذریعے وائرس کی تصدیق ہوئی۔ رواں ماہ ہی بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشنز نیشنل فوکل پوائنٹ نے راجشاہی ڈویژن میں نِپاہ وائرس کے ایک مصدقہ کیس کی اطلاع عالمی ادارۂ صحت کو دی تھی۔
بیان میں بتایا گیا کہ مریضہ کی عمر 40 سے 50 برس کے درمیان تھی، جنہیں بخار اور اعصابی نوعیت کی علامات محسوس ہونا شروع ہوئی تھیں۔ مریضہ کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں، تاہم انہوں نے حال ہی میں کچی کھجور کے درخت کا رس پیا تھا، جسے اس وائرس کی منتقلی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ مریضہ سے میل جول رکھنے والے 35 افراد کے ٹیسٹ بھی کیے گئے، تاہم ان میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی۔
تقریباً ایک ہفتہ قبل بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں بھی نِپاہ وائرس کے دو کیسز سامنے آئے تھے، جس پر چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے چند ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے اور بعض ہوائی اڈوں پر اسکریننگ کے اقدامات سخت کر دیئے گئے ہیں۔ تاہم عالمی ادارۂ صحت موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی قسم کی سفری یا تجارتی پابندی پر غور نہیں کررہا۔ بین الاقوامی سطح پر بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ کم سمجھا جا رہا ہے۔ اس وائرس کے پھیلاؤ کے واقعات عموماً دسمبر سے اپریل کے درمیان سامنے آتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق نِپاہ وائرس کے لیے اس وقت کوئی مخصوص مستند دوا یا ویکسین دستیاب نہیں۔ وائرس سے متاثرہ افراد میں شرح اموات 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے اسے انتہائی خطرناک بیماری تصور کیا جاتا ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












