گردے کے امراض میں خطرناک حد تک اضافہ، محفوظ رکھنے کے 10 مؤثر طریقے سامنے آگئے

Dangerous rise in kidney diseases; 10 effective ways to stay protected revealed
دنیا بھر میں گردوں کے امراض میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ طبی رپورٹس کے مطابق یہ بیماری اب اموات کی بڑی وجوہات میں شمار ہونے لگی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ طرزِ زندگی میں بگاڑ اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق گردے انسانی جسم کا نہایت اہم حصہ ہیں۔ یہ خون کو صاف کرتے ہیں۔ جسم سے فاضل مادے خارج کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ نمکیات اور پانی کا توازن بھی برقرار رکھتے ہیں۔ تاہم شوگر، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا اور غیر متوازن خوراک گردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
عالمی تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا میں تقریباً 78 کروڑ 80 لاکھ افراد گردوں کی دائمی بیماری میں مبتلا ہیں۔ یہ تعداد 1990 کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال تقریباً 15 لاکھ افراد گردے فیل ہونے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گردوں کی بیماری اکثر ابتدائی مراحل میں کوئی واضح علامات ظاہر نہیں کرتی۔ اسی لیے اسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔ جب علامات سامنے آتی ہیں تو بیماری کافی حد تک بڑھ چکی ہوتی ہے۔
ماہرین گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر پر زور دیتے ہیں۔ بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنا بے حد ضروری ہے۔ بلڈ پریشر کا باقاعدہ معائنہ بھی اہم ہے۔ درد کش ادویات کا غیر ضروری استعمال گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ مناسب مقدار میں پانی پینا، متوازن غذا لینا اور وزن کو قابو میں رکھنا بھی گردوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ اگر خاندان میں گردوں کے امراض کی تاریخ موجود ہو تو باقاعدگی سے خون اور پیشاب کے ٹیسٹ کروانے چاہئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر گردوں کے خطرناک امراض سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ بروقت احتیاط اور باقاعدہ جانچ زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












