جمعہ، 6-مارچ،2026
جمعہ 1447/09/17هـ (06-03-2026م)

کیا آپ بھی رات 11 کے بعد سوتے ہیں؟ ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

02 مارچ, 2026 10:15

جدید زندگی کے بڑھتے ہوئے تقاضوں اور موبائل فونز و اسکرینز کے زیادہ استعمال نے لوگوں کی نیند کے معمولات متاثر کر دیے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق رات 11 بجے کے بعد سونا خطرناک ہو سکتا ہے اور طویل مدت میں مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر آپ باقاعدگی سے دیر سے سوتے ہیں تو ذیابیطس، دل کی بیماریاں اور ذہنی دباؤ بڑھنے کا خطرہ رہتا ہے۔

صحت مند زندگی کے لیے ہر روز 7 سے 9 گھنٹے کی معیاری نیند ضروری ہے۔ نیند کے دوران جسم اور دماغ اپنی مرمت کرتے ہیں، زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں اور ہارمونز متوازن رہتے ہیں۔ ناکافی یا خراب نیند سے دن بھر تھکن، چڑچڑاپن اور توجہ میں کمی آتی ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے مطابق رات 10 سے 11 بجے کے درمیان سونا دل کی صحت کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ دیر سے سونے سے جسمانی گھڑی یا سرکیڈین ردھم متاثر ہوتی ہے۔ اس کا اثر بلڈ پریشر، شوگر لیول اور دل کی دھڑکن پر پڑ سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ عادت امراضِ قلب کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق رات دیر تک جاگنے والے افراد عموماً غیر صحت بخش اسنیکس کھاتے ہیں۔ اس سے وزن بڑھنے، ہاضمہ خراب ہونے اور میٹابولزم سست ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ توانائی کی کمی اور دن بھر تھکن بھی اس کا نتیجہ ہے۔

نیند کی کمی دماغ اور اعصاب کے لیے نقصان دہ ہے۔ تناؤ، اضطراب اور موڈ میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے۔ طلبہ اور ملازمین میں توجہ کی کمی اور کام کی کارکردگی میں گراوٹ بھی اسی کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ مسلسل نیند کی کمی مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہے، جس سے نزلہ، زکام اور دیگر بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔

ماہرین صحت مشورہ دیتے ہیں کہ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل موبائل اور دیگر اسکرینز کا استعمال کم کیا جائے۔ سونے اور جاگنے کا وقت باقاعدہ مقرر کیا جائے۔ کیفین اور بھاری غذا سے پرہیز کریں، سونے کا ماحول پرسکون اور تاریک رکھیں۔ ماہرین کے مطابق یہ معمولی احتیاط مستقبل میں بڑی بیماریوں سے بچا سکتی ہے۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔