پیر، 16-مارچ،2026
پیر 1447/09/27هـ (16-03-2026م)

تمباکو نوشی کرنے والے خبردار!!! نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجادی

16 مارچ, 2026 08:59

تمباکو نوشی کو پہلے ہی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ عادت کینسر، دل کے امراض اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔

ماہرین صحت بار بار خبردار کرتے ہیں کہ سگریٹ نوشی سے جتنا جلدی ممکن ہو نجات حاصل کر لی جائے۔ اس سے کئی سنگین بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔ اب ایک نئی تحقیق میں تمباکو نوشی کا ایک اور تشویشناک پہلو سامنے آیا ہے۔

 تحقیق کے مطابق ایسے مرد جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں، ان کے بچوں میں مستقبل میں میٹابولک مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ میٹابولک نظام جسم میں شوگر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس نظام میں خرابی ذیابیطس جیسے مرض کا سبب بن سکتی ہے۔

امریکا کی ایک معروف یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تمباکو نوشی صحت کی خرابی کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ محققین کے مطابق اگر افراد سگریٹ نوشی چھوڑ دیں تو کئی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے میں یہ قدم اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

تحقیق میں لیبارٹری تجربات کیے گئے۔ ان تجربات میں نر چوہوں کو نکوٹین دی گئی، جو تمباکو کا بنیادی جز ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ نکوٹین کے اثرات صرف استعمال کرنے والے فرد تک محدود نہیں رہتے۔ بلکہ اس کے اثرات اگلی نسل تک بھی منتقل ہو سکتے ہیں۔

مطالعے میں یہ بھی دیکھا گیا کہ نکوٹین استعمال کرنے والے نر چوہوں کی اولاد میں انسولین کی سطح متاثر ہوئی۔ انسولین جسم میں شوگر کو متوازن رکھنے کے لیے ضروری ہارمون ہے۔ اس کے علاوہ خالی پیٹ گلوکوز کی سطح میں بھی تبدیلی دیکھی گئی۔ جگر کے افعال میں بھی منفی اثرات سامنے آئے۔ یہ تبدیلیاں موٹاپے اور ذیابیطس کے خطرے سے منسلک ہو سکتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مردوں کی تمباکو نوشی آئندہ نسل کی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج ایک معروف طبی جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ صحت مند طرز زندگی اپنانا نہ صرف فرد بلکہ اس کی آنے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔