ہفتہ، 28-مارچ،2026
ہفتہ 1447/10/09هـ (28-03-2026م)

وہ عام غذائی غلطی جو ہارٹ فیلیئر جیسے جان لیوا مرض کا خطرہ بڑھاتی ہے؛ طبی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

28 مارچ, 2026 12:20

ہارٹ فیلیئر ایک طویل المعیاد بیماری ہے جس میں دل جسم کے مختلف حصوں تک مناسب مقدار میں خون پہنچانے میں ناکام ہو جاتا ہے۔

 یہ بیماری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دل کام کرنا بند نہیں کرتا، بلکہ پہلے کی طرح مؤثر طریقے سے خون پمپ نہیں کر پاتا۔ اس بیماری کا مکمل علاج موجود نہیں، تاہم ادویات اور صحت مند عادات کے ذریعے اسے بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔

اب ایک نئی تحقیق میں ہارٹ فیلیئر کے خطرے کو بڑھانے والی ایک عام وجہ سامنے آئی ہے، اور وہ ہے غذائی نمک کا زیادہ استعمال۔ جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی ایڈوانسز میں شائع تحقیق کے مطابق روزانہ نمک کی زیادہ مقدار دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اس تحقیق میں 25 ہزار سے زائد افراد کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ محققین نے دیکھا کہ اکثر افراد روزانہ تقریباً 4269 ملی گرام نمک استعمال کرتے ہیں، جبکہ طبی ماہرین روزانہ 2300 ملی گرام نمک استعمال کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔

 تحقیق سے معلوم ہوا کہ نمک کے زیادہ استعمال کے ساتھ ساتھ ناقص غذا، زیادہ کیلوریز، ہائی بلڈ پریشر اور خون میں چکنائی کی زیادہ مقدار بھی ہارٹ فیلیئر کے خطرے کو بڑھاتی ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی دریافت ہوا کہ اگر غذائی نمک کی مقدار میں معمولی کمی کی جائے، تو آئندہ چھ برسوں میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ تقریباً 6.6 فیصد کم ہو سکتا ہے۔ معتدل مقدار میں نمک کے استعمال سے ہارٹ فیلیئر کے کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

یہ تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ دل کی صحت کے لیے نمک کا مناسب استعمال انتہائی ضروری ہے اور یہ عادت طویل مدت میں زندگی کی حفاظت کر سکتی ہے۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔