ٹکراؤ کی کیفیت پارلیمان کی طرف سے نہیں ہے : اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد : وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ پارلیمان کو قانون سازی سے روکنے کا اختیار کسی کو نہیں دیا جاسکتا، ٹکراؤ کی کیفیت پارلیمان کی طرف سے نہیں ہے۔
حکومت میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں نے مشترکہ نیوز کانفرنس کی، جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی سماعت سے متعلق آج اعلامہ جاری کیا گیا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پاس شدہ بل کو صدر مملکت نے واپس بھجوایا۔ صدر کے دستخط کے بغیر بل ایکٹ آف پارلیمنٹ نہیں بنا۔ بل بھی پاس نہیں ہوا اور 8 رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عجلت میں درخواست دائر ہوئی اور بینچ بنایا گیا۔ ابھی تک یہ بل ایکٹ آف پارلیمنٹ نہیں بنا۔ پارلیمان کے فلور پر یہ مقدمہ دہرایا گیا۔ اس وقت بھی تمام جماعتوں نے کہا یہ قومی معاملہ ہے۔ پنجاب، کے پی الیکشن سے متعلق بھی فل کورٹ نہیں بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ فیصلے کیخلاف قراداد پر جعلی دستخط کا الزام سختی سے مسترد
ان کا کہنا تھا کہ بار نے ہمیشہ عدلیہ کی آزادی، شفافیت کیلئے کام کیا ہے۔ یہ ساری صورتحال الارمنگ ہے۔ ہم اپنا آئینی اور جمہوری حق استعمال کریں گے۔ حکومتی اتحاد کا پنجاب انتخابات کیس پر فل کورٹ کا مطالبہ مانا نہیں گیا۔
وزیر قانون نے کہا کہ موجودہ بل پر سینیئر ججز کو سماعت میں شامل نہیں کیا گیا۔ عدالتی روایات کا تقاضہ ہے کہ چیف جسٹس خود اس بینچ کی سربراہی نہ کریں۔ تمام بار کونسل نے بینچ کی تشکیل کو مسترد کیا ہے۔ بار کونسلز کا کہنا ہے کہ قانون سازی کو انا کا مسئلہ نہ بنایا جائےْ
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ٹکراؤ کی کیفیت پارلیمان کی طرف سے نہیں ہے۔ پارلیمان کو قانون سازی سے روکنے کا اختیار کسی کو نہیں دیا جاسکتا۔ قانون بنا ہی نہیں، بینچ بنا کر اس کو فکس کردیا گیا۔ ہم دو سپریم کورٹس کی بات نہیں کرتے، ادارے میں تقسیم کا تاثر دن بدن مضبوط ہوتا جارہا ہے۔
Catch all the بریکنگ نیوز News, پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










