آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننی پڑے گی، اس کے علاوہ کوئی حل نہیں : وزیر اعظم

لاہور : شہباز شریف کا کہنا ہے کہ مجبوری ہے آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنا پڑے گا۔ آئی ایم ایف سے جان چھڑالیں گے، فی الحال آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننی پڑے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے لاہور میں ریلوے کراسنگ فلائی اوور شاہدرہ منصوبے کی ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محنت کے ساتھ کام کو آگے بڑھارہے ہیں۔ یہاں آکر خوشی بھی ہوئی، کچھ معاملات میں تشویش بھی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 سال میں پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کو جان بوجھ کر مؤخر کیا۔ کئی منصوبے عدم توجہ کی وجہ سے دم توڑ گئے۔ پی ٹی آئی حکومت کو ان منصوبوں سے چڑ تھی۔ پی ٹی آئی حکومت نے ن لیگ کے منصوبوں کو مکمل نہیں ہونے دیا۔ نوازشریف کی قیادت میں 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی۔ میٹرو منصوبے کو کالاشاہ کا کو تک توسیع دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب میں سستا آٹا فراہم کیا۔ فری آٹے کی فراہمی کا منصوبہ پہلی بار شروع کیا گیا۔ 8 سے 10 کروڑ لوگوں کو فری آٹا اسکیم سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔ فری آٹا اسکیم بہت رسک تھا، لیکن عوام کو ریلیف دیا۔ ایک ماہ میں 65 ارب روپے سے آٹے کا انتظام کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : یو اے ای نے آئی ایم ایف کو ایک ارب ڈالر کی دو طرفہ امداد کی تصدیق کر دی : اسحاق ڈار
وزیر اعظم نے کہا کہ 2018 میں انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی 2013 سے 2018 تک ملک میں خوشحالی تھی۔ 2018 میں دھاندلی کرکے انتخابی نتائج تبدیل کئے گئے۔ شہروں کے نتائج جان بوجھ کر تاخیر کا شکار کئے گئے۔ 2018 میں عوام شیر کو ووٹ دینا چاہتے تھے لیکن مہر کہاں لگی سب جانتے ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جعلی الیکشن نے ترقی اور خوشحالی کے سفر کو روک دیا، مانتا ہوں کہ آج ملک میں مہنگائی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ موجودہ مہنگائی کی بڑی وجہ گزشتہ حکومت کے اقدامات ہیں۔ آئی ایم ایف کا ٹوٹا پھوٹا معاہدہ ہماری جھولی میں گرا۔ مجبوری ہے آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سادگی کو اپنانا ہوگا۔ آئی ایم ایف سے جان چھڑالیں گے تو پاکستان کیلئے خوشی کا دن ہوگا۔ فی الحال آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننی پڑے گی، اس کے علاوہ کوئی حل نہیں۔ پاکستان بہت جلد مشکلات سے باہر نکلے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اور عدالتوں میں جو معاملات چل رہے ہیں، سب واقف ہیں۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہمارے منصوبوں پر پابندیاں لگائیں۔ جان بوجھ کے تاخیر سے فیصلے کیے۔ انہوں نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔ پی کے ایل آئی کو تباہ و برباد کردیا۔ ثاقب نثار وہاں اپنے بھائی کو انچارج لگوانا چاہتے تھے۔ اورنج لائن کے خلاف پی ٹی آئی عدالت گئی۔
وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ ڈی پی او کے دفاتر کی بولیاں لگائی گئیں۔ میرے یا نوازشریف کے دور میں ایسی جرت کسی کی نہیں تھی۔
Catch all the بریکنگ نیوز News, پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










