منگل، 17-فروری،2026
منگل 1447/08/29هـ (17-02-2026م)

پنجاب انتخابات کیس : سپریم کورٹ نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو طلب کرلیا

19 اپریل, 2023 15:49

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے وزارت دفاع کی ملک میں ایک ہی روز انتخابات کرانے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو نوٹس جاری کر دیا۔

سپریم کورٹ میں ملک میں ایک ہی دن انتخابات سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ وزرات دفاع کی درخواست پر اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ قرآنی آیات کی تلاوت پر سماعت کا آغاز ہوا۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ مولا ہمیں ہمت دے کے صیح فیصلے کریں اور ہمیں نیک لوگوں میں شامل کرے۔ جب ہم چلے جائیں تو ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ بہت لمبا ہوتا جارہا ہے۔ حکومت نے اپنا ایگزیکٹیو کام پارلیمان کو دیا ہے یا نہیں۔ عدالت کو کہا گیا تھا سپلیمنٹری گرانٹ کے بعد منظوری لی جائے گی۔ اس کے برعکس معاملہ ہی پارلیمنٹ کو بھجوا دیا گیا۔ کیا الیکشن کیلئے ہی ایسا ہوتا ہے یا عام حالات میں بھی ایسا ہوتا ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے حکومت کوہدایت جاری کی تھی۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ قائمہ کمیٹی میں حکومت کی اکثریت ہے۔ حکومت کو گرانٹ جاری کرنے سے کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ وزیراعظم کے پاس اسمبلی میں اکثریت ہونی چاہیے۔ مالی معاملات میں تو حکومت کی اکثریت لازمی ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کی قرارداد کی روشنی میں معاملہ پہلے منظوری کیلئے بھیجا۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین حکومت کو اختیار دیتا ہے تو اسمبلی قرارداد کیسے پاس کرسکتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ گرانٹ کی بعد میں منظوری لینا رسکی تھا۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ کیا حکومت کی بجٹ کے وقت اکثریت نہیں ہونی تھی؟ جو بات آپ کر رہے ہیں، وہ مشکوک لگ رہی ہے۔ کیا کبھی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری لینے میں حکومت کو شکست ہوئی؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سال 2013 میں کٹوتی کی تحریکیں منظوری ہوچکی ہیں۔ موجودہ کیس میں گرانٹ جاری کرنے سے پہلے منظوری لینے کیلئے وقت تھا۔

جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ کی ٹیم نے بار بار بتایا کہ سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری بعد میں لی جاتی ہے۔ وزارت خزانہ نے آئین کے آرٹیکل 84 کا حوالہ دیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ قومی اسمبلی اس معاملے میں قرارداد منظوری کرچکی تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے اکتوبر تک الیکشن نہیں ہوسکتے۔ الیکشن کمیشن نے ایک ساتھ الیکشن کرانے کا بھی کہا ہے۔ اس بات پر کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی آبزرویشن کی بنیاد سیکیورٹی کی عدم فراہمی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ دہشتگردی ملک میں 1992 سے جاری ہے۔ 1987، 1991، 2002، 2008، 2013 اور 2018 میں الیکشن ہوئے۔ سیکیورٹی کے مسائل ان انتخابات میں بھی تھے۔ 2008 میں تو حالات بہت کشیدہ تھے۔ 2007 میں تو بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوئی تھی۔ 2013 میں بھی دہشت گردی تھی۔ اب ایسا کیا منفرد خطرہ ہے، جو الیکشن نہیں ہو سکتے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے ایک ساتھ تمام سکیورٹی فورسز نے فرائض سر انجام دئیے تھے۔ اب دو صوبوں میں الیکشن الگ ہوں گے۔ 8 اکتوبر آپریشنز میں متعین کردہ ٹارگٹ حاصل کرنے کی پوری کوشش ہے۔ کسی کو توقع نہیں تھی کہ اسمبلیاں پہلے تحلیل ہو جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں : از خود نوٹس کا اختیار سپریم کورٹ کا ہے، صرف چیف جسٹس کا نہیں : جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال ایک حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔ عدالت نوٹس نہ لیتی تو قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی تھی۔ صوبائی اسمبلیوں کے ہوتے ہوئے قومی اسمبلیوں کے انتخابات بھی ہو ہونے ہی تھے۔ آئین میں اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کا وقت مقرر ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ رطانیہ میں جنگ کے دوران بروقت انتخابات ہوئے تھے۔ بم دھماکوں کے دوران بھی برطانیہ میں انتخابات ہوتے تھے۔ عدالت کو کہاں اختیار ہے کہ الیکشن اگلے سال کروانے کا کہے؟

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کا کام بیرونی خطرات سے نمٹنا ہے۔ سال 2001 سے سیکیورٹی ادارے بارڈرز پر مصروف ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فنڈز اور سیکیورٹی ملنے پر انتخابات کرانے کا کہا تھا۔ فنڈز کے حوالے سے عدالتی حکم ایک سے دوسرے ادارے کو بھیجا جا رہا ہے۔ کیا گارنٹی ہے کہ 8 اکتوبر کو الیکشن ہوجائیں گے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو پیغام آپ دینا چاہ رہے ہیں، وہ سمجھ گیا ہوں۔ فوج نے انتخابات کے مقررہ وقت کے مطابق آپریشنز شروع کیے تھے۔

جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ کیا آرٹیکل 245 کے تحت فوج سول حکومت کی مدد کو آتی ہے؟  اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 245 کے تحت بنیادی حقوق معطل ہوتے ہیں۔

جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ کیا 2018 کے انتخابات میں بنیادی حقوق معطل تھے؟ وفاقی حکومت آرٹیکل 245 کا اختیار کیوں استعمال نہیں کر رہی؟ کیا آئین بالادست نہیں ہے۔ افواج نے ملک کے لیے جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ افواج پاکستان کا تو سب کو شکر گزار ہونا چاہیئے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 27 مارچ کو عدالتی کارروائی شروع ہوئی 4 اپریل کو فیصلہ آیا۔ پہلے 4/3 کا معاملہ تھا، پھر فل کورٹ کا۔ بائیکاٹ ہوا، لیکن کسی نے سکیورٹی کا مسئلہ نہیں اٹھایا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل آپ کی کوششوں کی وجہ سے ڈی جی ایم او نے آکر بریفنگ دی۔ ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکریٹری دفاع بھی موجود تھے۔ ملاقات میں افسران کو بتایا تھا دوران سماعت یہ معاملہ نہیں اٹھایا گیا۔ سب کو بتایا کہ فیصلہ ہو چکا ہے اب پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور وزارت دفاع کی درخواستیں فیصلے واپس لینے کی بنیاد نہیں۔ الیکشن کمیشن نے پہلے کہا وسائل دیں، الیکشن کروالیں گے۔ اب کہتے ہیں ملک میں انارکی پھیل جائے گی۔ الیکشن کمیشن پورا مقدمہ دوبارہ کھولنا چاہتا ہے۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع کی رپورٹ میں عجیب سے استدعا ہے۔ کیا وزارت دفاع ایک ساتھ الیکشن کروانے کی استدعا کرسکتی ہے؟ وزارت دفاع کی درخواست ناقابل سماعت ہے۔ ٹی وی پر سنا ہے وزراء کہتے ہیں اکتوبر میں بھی الیکشن مشکل ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ڈائیلاگ سے حالات بہتر ہونگے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کوئی سیاسی حل نہ نکلا تو سپریم کورٹ 14 مئی کے فیصلے پر قائم رہے گی، عید کے بعد جلد کیس سنیں گے۔

سپریم کورٹ نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بتائے کہ جماعت اسلامی سمیت دیگر کل پیش ہوں۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت سیاسی جماعتوں کو مہلت دے۔

چیف جسٹس نے فیصل چوہدری کو روسٹرم پر بلا لیا۔ عدالت نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی مذاکرات پر آمادہ ہے۔ فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ سراج الحق زمان پارک آئے، اگلے دن ہمارا سندھ کا صدر گرفتار ہو گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تاریخ پر جماعتیں مطمئن ہوئیں تو لیول پلیئنگ فیلڈ ملے گا۔ قوم کی تکلیف اور اضطراب کا عالم دیکھیں۔ فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے آپ سے بہت امید ہے۔ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی۔

Catch all the بریکنگ نیوز News, پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔