عمران خان کو تمام واقعات کی ذمہ داری لینی پڑے گی : خرم دستگیر

گجرانوالہ : وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ کورکمانڈر کی رہائش گاہ اور جی ایچ کیو پر حملہ سیاسی احتجاج نہیں۔ یہ عوامی ردعمل نہیں ٹارگٹنگ ہے، عمران خان کو ذمہ داری لینی پڑے گی۔
وفاقی وزیر خرم دستگیر نے گیپکو ہیڈ کوارٹر گجرانوالہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نو اور دس مئی کو جلاؤ گھیراؤ بلوے ہوئے سرکاری نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ تحریک انصاف نے جو ٹارگٹنگ اپنی قیادت کے ایماء پر کی، اس قسم کی ٹارگٹنگ دہشت گروں اور نے کی۔
انہوں نے کہا کہ اسکولوں، شہداء کی یادگاروں کو جلانا سیاسی اختلاف نہیں۔ لاہور میں جناح ہاؤس کورکمانڈر کی رہائش گاہ اور جی ایچ کیو پر حملہ سیاسی احتجاج نہیں۔ میانوالی میں ایم ایم عالم کے نام پر بنائے گئے بیس اور ماڈل کو جلانا سیاسی احتجاج نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریڈیو پاکستان کو جلانے والوں نے نو سال پہلے پی ٹی وی پر بھی حملہ کیا تھا۔ پولیس اہلکاروں کی گنتی مشکل ہے، جن کو انہوں نے احتجاج کی آڑ میں زخمی کیا۔ سوچی سمجھی تقسیم کے تحت پاکستان میں آگ لگائی گئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ان واقعات کی تمام تر ذمہ داری عمران خان پر ہے، یہ عوامی ردعمل نہیں ٹارگٹنگ ہے۔ وفاقی حکومت صوبائی حکتوں کے ساتھ مل کر شرپسندوں کو گرفتار کر کے سزائیں دلوائے گی۔ سیاسی اختلافات کا لبادا پہن کر ملک میں جلاؤ گھیراؤ ہمیں قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : القادر ٹرسٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری، عمران خان کو شامل تفتیش ہونے کا حکم
خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ سولہ اکتوبر 2020 کو میاں نواز شریف نے تاریخی تقریر کر کے اداروں کے غیر آئینی کردار پر سخت تنقید کی۔ کسی جلسے میں کوئی گملا یا بلب تک نہیں ٹوٹا۔ مسلم لیگ کو بھی اختلافات رہے ہیں، لیکن ہم نے اس اختلاف کو پاکستان میں آگ لگانے کیلئے استعمال نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ان تمام واقعات کی ذمہ داری لینی پڑے گی۔ عدالت نے جلاؤ گھیراؤ کا پوچھنے کی بجائے کہا کہ آپ کو دیکھ کر اچھا لگا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ اعلیٰ ترین عدالت نے جلاؤ گھیراؤ کرنیوالوں کے ساتھ بزدلانہ مصالحت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے اس بات کی توثیق کر دی ہے کہ اگر آپ جلاؤ گھیراؤ کریں گے تو عدالت آپ کو خوش آمدید کہے گی۔ حکومت عوام کے جان ومال کا تحفظ کریگی۔ جی ایچ کیو، ائیر فورس پر پہلے دہشت گردوں نے حملے کئے۔
لیگی رہنماء نے کہا کہ چار دنوں میں کابینہ کے چار اجلاس ہوئے تمام پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ آئین پر عمل کرتے ہوئے ان شرپسندوں سے نمٹیں گے۔ وزیراعظم کیخلاف توہین عدالت کی کوئی کارروائی ہوئی تو پارلیمان وزیراعظم کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو گی۔
خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ 2023 کے نومبر میں ہونیوالے انتخابات کو شفاف بنانے کیلئے اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ ووٹ کی طاقت سے حکومت برسر اقتدار آئے۔ عمران خان نے نیب قانون کیخلاف درخواست بھی دے رکھی ہے، اسی قانون سے فائدہ بھی لے رہے ہیں۔
انوہں نے کہا کہ عدالت نے وارنٹ کے عمل کو غیر قانونی کہا وارنٹ ابھی بھی اپنی جگہ پر موجود ہے۔ میرا سوال ہے عمران خان نے اگر ساٹھ ارب کی چوری نہیں کی تو عدالت کو تلاشی دیں۔ نئے قانون کے تحت نیب کورٹ کے پاس ضمانت لینے کی طاقت حاصل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں فاشسٹ لاڈلے کی نشوونما پرورش کیلئے بضد ہیں۔ جن ممالک کی مثالیں دیکر عمران خان مادر جمہوریت کہتے ہیں، ان ممالک میں ججز کو نکالنے کیلئے پارلیمان کے پاس طاقت ہے۔
Catch all the بریکنگ نیوز News, پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










