اتوار، 30-نومبر،2025
اتوار 1447/06/09هـ (30-11-2025م)

عدلیہ پر حملہ ہوا تو سب سے پہلے میں آگے آؤں گا: چیف جسٹس پاکستان

03 اپریل, 2024 15:15

سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بینچ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے خط پر ازخود نوٹس کی سماعت 29 اپریل تک ملوتی کردی گئی۔

 تفصیلات کے مطابق سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ میں کسی پر انگلی نہیں اٹھارہا،سوموٹو لینے کا کہنے والے وکلا کو وکالت چھوڑ دینی چاہیے۔

چیف جسٹس نے ریمارس دیے کہ ہمیں عدالتوں کو مچھلی بازار نہیں بنانا چاہیے، جمہوریت کا تقاضہ ہے اپنے مخالف کی رائے کو بھی مانیں، انفرادی طور پر وکلاء سے نہیں ملتا،وزیر اعظم سے میری ملاقات ہوئی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ پر حملہ ہوا تو سب سے پہلے میں آگے آؤں گا،عدلیہ کی آزادی پر زیرو ٹالیرنس ہوگا، لگتا ہے عدلیہ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے، میں دباؤ میں نہیں آتا، عدلیہ کی آزادی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا، اب وہ زمانے چلے گئے جب چیف جسٹس کی مرضی ہوا کرتی تھی۔

چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ کسی کا کوئی اور ایجنڈا ہے تو وہ چیف جسٹس یا بار کا صدر بن جائے، ادارے کی اہمیت چیف جسٹس سے نہیں تمام ججز سے ہوتی ہے، ایسے جو پریشر آئے گا وہ ہم برداشت نہیں کریں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ طے ہوا ہم وزیر اعظم سے انتظامی سائیڈ پر سرکاری میٹنگ کریں گے، یہ جوڈیشل سائیڈ پر میٹنگ نہیں تھی۔

دوسری جانب اٹارنی جنرل منصور عثمان نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے وضاحت دینا چاہتا ہوں، جو تاثر دیا جارہا ہے حکومت اپنا کمیشن بنارہی تھی یہ غلط ہے، ایک لمحے کیلئے بھی نہیں سوچا کسی وفاقی سیکریٹری سے تحقیقات کرائیں، ہم نے سابق چیف جسٹس کا نام دیا، اس پر بات کرنے والوں نے شاید کمیشن آف انکوائری ایکٹ نہیں پڑھا۔

چیف جسٹس نے ریمارس دیے کہ کمیشن کے لیے نام بھی بتادیں کس نے تجویز کیے تھے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ کی جانب سے سابق چیف جسٹس ناصر الملک، تصدق جیلانی کے نام آئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سمجھ نہیں آرہا ہم کس طرف جارہے ہیں، اگر کسی کو تصدق جیلانی سے اختلاف تھا تو وہ باقاعدہ آگاہ کرتا،  سوشل میڈیا پر تصدق جیلانی سے متعلق عجیب باتیں کی گئیں، شریف آدمی کی طرح تصدق جیلانی نے کمیشن کی سربراہی سے انکار کردیا، کیا کسی مہذب معاشرے میں ایسا ہوتا ہے، کیا کسی مہذب معاشرے میں ایسا ہوتا ہے، سپریم کورٹ کے اختیارات حکومت کو دینے کا غلط تاثر دیا گیا، سپریم کورٹ کے پاس کمیشن بنانے کا آئینی اختیار نہیں۔

خیال رہے کہ سات رکنی لارجر بینچ میں جسٹس منصورعلی شاہ،جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہرمن اللہ، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اخترافغان بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز نے عدلیہ کے معاملات میں خفیہ اداروں کی مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے تھے

جب کہ وفاقی حکومت کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کے لیے جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں انکوائری کمیشن قائم کیا گیا تھا تاہم جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی نے کمیشن کی سربراہی سے معذرت کر لی تھی۔

Catch all the بریکنگ نیوز News, پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔