بدھ، 25-مارچ،2026
بدھ 1447/10/06هـ (25-03-2026م)

فوجی انخلاء کا مطالبہ، پی ٹی آئی کا بیانیہ یا دشمن کی زبان

28 جولائی, 2025 23:40

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کی تنظیمی کمیٹی نے وفاقی حکومت سے 15 دن میں آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی ختم کرنے اور فوجی انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے میں دہشت گردی عروج پر ہے اور پاک فوج روزانہ 190 سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز میں مصروف ہے اور روزانہ کی بنیادوں پر قربانیاں دے رہی ہے۔

فوجی انخلا کا مطالبہ دراصل دہشت گردوں کے لیے سہولت کاری کے مترادف ہے۔ یہ زبان وہی ہے جو بھارتی پراکسیز اور دشمن طاقتیں استعمال کررہی ہیں چاہے "فتنہ الخوارج ہو ، فتنہ الہندوستان یا بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اب پی ٹی آئی بھی اسی بیانیے کو دہرا رہی ہے۔

تیرہ، بنوں، کرم اور پاراچنار جیسے واقعات 12 سالہ پی ٹی آئی حکومت کی ناقص حکمرانی اور گورننس کے خلا کا نتیجہ ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ پاکستان آرمی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف اپنی جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں۔یہ قربانیاں ان پالیسیوں کا نتیجہ ہیں جو 2021 میں دہشت گردوں کی واپسی اور بحالی سے متعلق پی ٹی آئی حکومت نے اختیار کی اور اب گورننس کے یہ خلاء پاک فوج اپنے خون سے پورا کر رہی ہے جو کہ اصل میں صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی۔

2022 کی پیش کردہ ایک رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا CTD اپنا 96 فیصد بجٹ صرف تنخواہوں پر خرچ کرتا ہے۔ صرف 4 فیصد بجٹ آپریشنز کے لیے مختص ہے، جبکہ جدید سازوسامان، تربیت اور انفراسٹرکچر کی کوئی تیاری نہیں کی گئی۔ خیبر پختونخوا میں CTD کے افسران کی تعداد ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے، مگر یہ عملہ نااہل، کم تعلیم یافتہ اور ناکافی سہولیات سے لیس ہے۔

یہ ایک واضح ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے لیے سنجیدگی سے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ فوجی انخلا کا مطالبہ دراصل پی ٹی آئی کی اپنی کرپشن، نا اہلی اور خاص طور پر 5 اگست کے ناکام اختجاج سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ صوبائی حکومت کا یہ رویہ سیکیورٹی کے حساس ترین معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی خطرناک مثال ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ضم شدہ اضلاح سے فوج نکالی گئی تو دہشت گرد یقیناً دوبارہ منظم ہو جائیں گے، جو بھارت اور اس کی پراکسیز کا خواب ہے۔ایسی صورت میں نہ صرف قبائلی علاقے بلکہ پورا پاکستان خطرے میں ہوگا

پاک فوج وہ خلا پر کر رہی ہے جو سول حکومت اپنی نااہلی کے باعث پیدا کر چکی ہے۔ یہ مطالبات اس بیانیے کی واضح نفی کرتے ہیں جو پی ٹی آئی دے رہی ہے، اور ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے مطالبات صرف اندرونی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور دشمن قوتوں کے مقاصد  کو تقویت دینے کی ایک کوشش ہیں۔

قیام امن صوبائی حکومت کا کام ہے مگر ملکی سلامتی کی خاطر پاک فوج وہاں اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں اور ہر روز قربانیاں اپنے خون سے دے رہی ہے لیکن اگر صوبائی حکومت اپنی باقی نا اہلیوں کو چھپانے کے لئے یہ انتہائی خطرناک قدم اٹھانا چاہتی ہے تو صوبائی حکومت کے اس فیصلے کے بعد فوج ایک دن بھی وہاں نہیں ٹھہرے گی لیکن فوج کے جانے کے بعد خیبر پختونخوا میں جو کچھ بھی ہوگا اسکی ساری ذمہ داری گنڈاپور اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر ہوگی۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔