بدھ، 25-مارچ،2026
بدھ 1447/10/06هـ (25-03-2026م)

سپریم کورٹ کا طلاق یافتہ بیٹی کو پنشن دینے کے حوالے سے بڑا فیصلہ

30 جولائی, 2025 14:35

سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیٹی کو والد کی پنشن اس کی شادی کی حیثیت پر نہیں، بلکہ اس کے حق کی بنیاد پر دی جائے گی۔

عدالت نے والد کی وفات کے بعد طلاق یافتہ بیٹی کو پنشن نہ دینے سے متعلق سندھ حکومت کا 2022 کا امتیازی سرکلر غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیدیا۔ عدالت نے کہا کہ پنشن کا حق اہل خانہ کو منتقل ہوتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تاخیر جرم کے زمرے میں آتی ہے۔

جسٹس عائشہ ملک کی جانب سے جاری کیے گئے 10 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پنشنر والد کی وفات کے وقت زندہ بیٹی کا حق، کسی سرکاری سرکلر کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ طلاق کا وقت چاہے والد کی وفات سے پہلے ہو یا بعد، اس بات سے بیٹی کے پنشن کے حق پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے پنشن کا تعین ان کی شادی شدہ حیثیت کے بجائے ان کی مالی ضروریات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ سندھ حکومت کا امتیازی رویہ رکھنے والا سرکلر نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ آئین کے بھی منافی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو خواتین کے مالی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔