منگل، 24-مارچ،2026
منگل 1447/10/05هـ (24-03-2026م)

ٹرمپ کے نئے ٹیرف نافذ العمل، موٹی موٹی باتیں جو آپ جاننا چاہیں گے

07 اگست, 2025 19:12

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درجنوں ممالک سے درآمد ہونے والی اشیاء پر سخت ترین ٹیرف نافذ کر دیے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف عالمی تجارتی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے بلکہ اسے گزشتہ ایک صدی کی سب سے بڑی اقتصادی تبدیلیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق یہ اقدامات ”تجارتی انصاف“ (Reciprocal Tariffs) کے اصول پر مبنی ہیں، یعنی جو ممالک امریکا پر زیادہ ٹیرف لگاتے ہیں، اب وہ خود بھی ایسے ہی اقدامات کا سامنا کریں گے۔

تو آئیے ذرا ان محصولات (ٹیرف) کے بارے میں کچھ ضروری باتیں جان لیتے ہیں۔

نئے ٹیرف ریٹس کیا ہیں؟

یہ چارٹ منتخب ممالک کے لیے نئے اور اپریل میں اعلان کردہ ٹیرف ریٹس (درآمدی محصولات) کا تقابلی جائزہ پیش کرتا ہے۔ نیلے رنگ کی بار اپریل 2025 میں اعلان کردہ شرحیں دکھاتی ہے۔ نارنجی رنگ کی بار وہ نئی شرحیں ہیں جو اب نافذ ہو چکی ہیں۔ مثال کے طور پر برازیل پر ٹیرف میں نمایاں اضافہ ہوا ہے (10% سے بڑھا کر 50%)۔ ویتنام، تھائی لینڈ، اور سری لنکا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی شرح میں کمی آئی ہے۔

پہلے بیشتر ممالک کی اشیاء پر صرف 10 فیصد ٹیرف لاگو تھا، مگر اب شرح ملک کے لحاظ سے مختلف ہے۔

سب سے زیادہ ٹیرف جن ممالک پر عائد کیے گئے ہیں ان میں بھارت اور برازیل (50 فیصد)، لاؤس اور میانمار(40 فیصد)، سوئٹزرلینڈ (39 فیصد)، عراق اور سربیا (35 فیصد)، پاکستان، تھائی لینڈ، تائیوان اور ویتنام (19 فیصد) شرح کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔

بھارت پر یہ 50 فیصد ٹیرف دو مراحل میں لاگو ہو رہا ہے۔ 25 فیصد ٹیرف پہلے لاگو ہو چکا ہے بھارت کو یہ سزا روسی تیل خریدنے پر دی جا رہی ہے۔

مزید 39 ممالک، بشمول یورپی یونین پر 15 فیصد ٹیرف عائد کیے گئے ہیں۔ کینیڈا اور میکسیکو کی مصنوعات کو فی الحال کچھ شرائط کے تحت استثنا حاصل ہے، لیکن اگر وہ ”امریکا کینیڈا میکسیکو معاہدے“ (USMCA) کی شرائط پوری نہ کریں تو ان پر بھی 25 سے 35 فیصد تک ٹیرف لگایا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ نے پچھلے پانچ ماہ میں آٹھ تجارتی معاہدوں کا اعلان کیا، جن میں سے صرف دو (برطانیہ اور چین کے ساتھ) باقاعدہ طور پر طے پائے ہیں۔

چین کے ساتھ معاہدہ 12 اگست کو ختم ہو رہا ہے، اور اگر فریقین نے اس کی تجدید نہ کی تو دوبارہ سخت ٹیرف لگ سکتے ہیں۔

پاکستان کے ساتھ بھی اہم تجارتی معاہدے کا اعلان ہوا ہے، جس میں امریکا پاکستان کے تیل، معدنیات، آئی ٹی اور کرپٹو جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستانی مصنوعات پر ٹیرف کو 29 فیصد سے کم کرکے 19 فیصد کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی وزارت خزانہ کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے اقتصادی دور کی شروعات ہے۔

تاہم، بعض معاہدے صرف ابتدائی خاکے ہیں اور انہیں حتمی شکل دینے میں مہینوں یا سال لگ سکتے ہیں۔

کن اشیاء کو استثنا حاصل ہے؟

کچھ اشیاء ان نئے ٹیرف سے مستثنیٰ ہیں، اسمارٹ فونز، جن پر کسی نئے ٹیرف کا اطلاق نہیں ہوگا، اور ادویات (Pharmaceuticals)، جن پر اگرچہ فی الحال ٹیرف نہیں، لیکن ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ان پر بھی ٹیرف لگ سکتے ہیں۔

یورپی یونین نے 15 فیصد ٹیرف کے بدلے ادویات پر علیحدہ رعایت حاصل کی ہے۔

اس کے علاوہ، جو مصنوعات بیرونِ ملک تیار ہوتی ہیں لیکن ان کی کم از کم 20 فیصد قیمت امریکی مٹیریل یا لیبر پر مشتمل ہو، وہ بھی جزوی طور پر مستثنیٰ ہیں۔

یہ ٹیرف کب سے نافذ ہیں؟

نئے ٹیرف تکنیکی طور پر نافذ العمل ہو چکے ہیں، تاہم ایک نرمی یہ دی گئی ہے کہ جو مصنوعات 7 اگست جمعرات کی رات 12 بج کر ایک منٹ سے پہلے بحری جہازوں میں لدی اور امریکا کی طرف روانہ ہو چکی تھیں، ان پر 5 اکتوبر تک پرانے ٹیرف لاگو ہوں گے۔

کیا یہ سزاؤں کا اختتام ہے؟

جی نہیں! یہ صرف شروعات ہے۔

ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ سیمی کنڈکٹرز (چِپس) اور لکڑی پر 100 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔ اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ اقدام جلد متوقع ہے، حالانکہ اس کی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔

حالانکہ ان نئے ٹیرف کے خلاف عدالت میں مقدمہ زیرِ سماعت ہے اور ممکن ہے کہ انہیں غیر قانونی قرار دے دیا جائے، لیکن ٹرمپ کے پاس صدارتی اختیارات کی صورت میں ابھی بھی کئی راستے موجود ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی معاشی پالیسی کو جاری رکھ سکتے ہیں۔

ان اقدامات سے کیا ہوگا؟

ٹرمپ کے یہ نئے اقدامات عالمی تجارت میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بھارت جیسے ممالک کو امریکا سے سخت معاشی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جب کہ پاکستان کو جزوی ریلیف ملا ہے، مگر مستقل فائدے کے لیے دونوں ممالک کو سیاسی اور معاشی سمجھوتوں کو مزید تقویت دینا ہوگی۔

عالمی معیشت میں اس ”ٹیرف وار“ کے اثرات آنے والے مہینوں میں مزید واضح ہوں گے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔