منگل، 24-مارچ،2026
پیر 1447/10/04هـ (23-03-2026م)

ہندوستان کے لیے اسرائیلی فوجی مدد، پاکستان کے خلاف مذموم عزائم کی ایک جھلک

11 اگست, 2025 20:59

ہندوستان کے لیے اسرائیلی فوجی مدد — پاکستان کے خلاف مذموم عزائم کی ایک جھلک

تحریر: محمد رضا سید

اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو کہا کہ تل ابیب نے مئی 2025ء میں پاکستان کے خلاف آپریشن سندھور کے دوران ہندوستان کو فوجی مدد فراہم کی تھی، یہ مدد سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس معلومات اور پرزہ جات کی فراہمی پر مشتمل تھی۔ واضح رہے کہ نئی دہلی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں فلس فلیک آپریشن کی آڑ میں پاکستان کے اندر مختلف مقامات پر، جنہیں لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد سے منسوب کیا گیا، حملے کیے تھے، جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں حریف ممالک نے رواں سال مئی میں توپ خانے، ڈرون اور فضائی حملوں کا تبادلہ کیا۔ ہندوستان نے پاکستان کو پہلگام میں سیاحوں پر مہلک حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا لیکن اس واقعے کے حوالے سے شواہد فراہم نہ کیے، اسلام آباد کی جانب سے عالمی اداروں سے تحقیقات کرانے کی تجویز پر کوئی پیش رفت نہ ہوئی اور ہندوستان نے یکطرفہ طور پر پاکستان کی جغرافیائی حدود میں دہشت گرد حملے شروع کر دیے۔ اس بار ہندوستان کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل نہ ہو سکی کیونکہ اس کی شدت پسند حکومت کے مذموم عزائم دنیا پر واضح ہو چکے تھے۔

ہندوستان کو صرف اسرائیل سے مدد ملی جس کا اعتراف خود اسرائیلی وزیرِاعظم نے کیا، پاکستان کے اداروں کو چار روزہ جھڑپ کے دوران یہ معلومات حاصل تھیں کہ اسرائیل ہندوستان کی مدد کر رہا ہے اور اسرائیلی فوجی ماہرین نئی دہلی، سری نگر اور انت ناگ میں موجود ہیں۔ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے دنیا کے اہم دارالحکومتوں کو اس حقیقت سے بعض شواہد کے ساتھ آگاہ بھی کیا، جن میں امریکہ بھی شامل تھا۔

ہندوستان اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات 1990ء کی دہائی سے تیزی سے مضبوط ہوئے ہیں۔ آج اسرائیل، بھارت کو اسلحہ فراہم کرنے والا بڑا ملک ہے۔ باراک 8  میزائل سسٹم، جو بحری جہازوں کو فضائی حملوں سے محفوظ بنانے میں اہم ہے دونوں ممالک مل کر تیار کر رہے ہیں، اسپائیک اینٹی ٹینک میزائل، ہاوک اور دیگر فضائی دفاعی نظام بھی اسرائیل نے فراہم کیے ہیں، جن سے ہندوستان کی فضائیہ اور بحریہ کی جارحانہ صلاحیت بڑھی ہے، نگرانی، جاسوسی اور ٹارگٹ ہٹ کرنے کیلئے ہرون اور سرچر ڈرونز دیے گئے، اسرائیل، میزائل، ڈرون اور ریڈار سسٹم کی تیاری میں ہندوستان کی مدد کر رہا ہے اور اسلحہ سازی میں اڈانی گروپ اور ڈی آر ڈی او کے ساتھ شراکت داری قائم ہے۔

پاکستان کے خلاف حالیہ جارحیت کے دوران اسرائیل نے ترجیحی بنیادوں پر فوری اسلحہ اور پرزہ جات بھیجے تاکہ ہندوستان کے جنگی ذخائر برقرار رہیں حالانکہ خود اسرائیل کو غزہ میں جنگ کے لیے اسلحے کی اشد ضرورت تھی، نیتن یاہو نے اس کشیدہ صورتِ حال میں اسرائیل میں بھارتی سفیر جے پی سنگھ سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کے خلاف جنگی کارروائی میں اسرائیل ہندوستان کے ساتھ کھڑا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ جیسے اسرائیل فلسطینیوں کی دہشت گردی کا سامنا کرتا ہے، ویسے ہی ہندوستان بھی کشمیر میں پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے، لہٰذا دونوں کو سکیورٹی کے شعبے میں مزید تعاون بڑھانا ہوگا۔

ہندوستان نے 1950ء میں اسرائیل کو ’’ڈی فیکٹو‘‘ تسلیم کیا، اگرچہ سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے گئے تھے۔ 1950ء سے 1992ء تک اسرائیل کے ساتھ خفیہ رابطے اور فوجی تعاون جاری رہا۔ 1990ء کی دہائی سے دفاعی تعاون میں تیزی آئی اور 1992ء میں ہندوستان نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا۔ کروڑوں مسلمان شہریوں کی ناراضگی کے باوجود یہ قدم اس لئے اٹھایا گیا کہ مصر اور اردن پہلے ہی اسرائیل کو تسلیم کر چکے تھے اور ترکی تو آغاز ہی میں اس کے ناجائز قیام میں شریک تھا، 2017ء میں نریندر مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیرِاعظم بنے، اور اسلام دشمنی کے اسی جذبے کے ساتھ انہوں نے اسرائیل سے تعلقات کو عروج دیا۔

بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق نیتن یاہو نے مئی میں ہندوستان کی پاکستان پر فوجی کارروائیوں کے دوران اسرائیلی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق کی، جن میں بڑی تعداد میں ڈرونز اور ’’باراک 8‘‘ میزائل شامل تھے۔ نیوز 18 کے مطابق ’’ہیپی‘‘ اور ’’اسکائی اسٹرائیکر‘‘ لوئٹرنگ گولہ بارود بھی استعمال کیا گیا، جس نے پاکستانی فضائی دفاع اور نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا۔ گزشتہ دہائی میں ہندوستان نے اسرائیل سے 2.9 ارب ڈالر کے فوجی ہارڈ ویئر خریدے ہیں،1999ء کی کارگل جنگ میں گولہ بارود کی شدید کمی کے وقت اسرائیل نے 155 ملی میٹر توپ خانے کے شیل اور لیزر گائیڈڈ بموں کے لیے ٹارگٹنگ سسٹمز فراہم کیے، نیز ’’ہرون‘‘ ڈرونز بھی دیے تاکہ پاکستانی پوزیشنز پر نظر رکھی جا سکے۔ 2008ء کے ممبئی حملوں کے بعد اسرائیلی ماہرین نے بھارتی اسپیشل فورسز کو تربیت دی، جدید آلات فراہم کیے اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو بڑھایا۔ 2019ء میں پاکستان کے خلاف فضائی کارروائی میں اسپائس 2000 بم استعمال کیے گئے جو طویل فاصلے سے درست نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اسرائیلی کمپنیوں اور خفیہ اداروں نے بھارت کے ساتھ سائبر سکیورٹی، نگرانی اور انٹیلی جنس ٹولز کا تبادلہ کیا، جن میں متنازعہ پیگاسس اسپائی ویئر بھی شامل ہے، جو سیاسی مخالفین اور سکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال ہوا۔

پاکستان کے خلاف چار روزہ بھارتی جارحیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک فون کال پر ختم ہوئی، مگر تل ابیب کا مکروہ کردار پاکستان کے لیے سوچ کا مقام ہے۔ ہندوستان کے ساتھ اسرائیل کا دیرینہ دفاعی تعاون مسلمان دشمنی پر مبنی ہے۔ پاکستانی قیادت کو چاہیے کہ اسرائیل سے تعلقات بڑھانے کے بجائے فلسطینی کاز کے ساتھ اسی عزم سے کھڑے ہوں جس کی طرف قائداعظم محمد علی جناح نے رہنمائی کی تھی — یعنی اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے جو فلسطینیوں سے چھین کر بنائی گئی ہے۔ اسرائیل کئی بار ہندوستان کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کی ترغیب دے چکا ہے اور غیر معمولی فوجی مدد کی پیشکش بھی کر چکا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی فضائیہ نے حالیہ کشیدگی میں جو دندان شکن جواب دیا ہے، وہ پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔