پیر، 23-مارچ،2026
پیر 1447/10/04هـ (23-03-2026م)

آکسفرڈ یونیورسٹی میں داخلے کا ایک ہزار فیصد یقین تھا،ماہ نور چیمہ کی کامیابی کی کہانی

16 اگست, 2025 23:17

میرا مقصد ریکارڈ بنانا یا کسی کا ریکارڈ توڑنا نہیں تھا۔ میں بس یہ جانتی تھی کہ یونیورسٹی سے پہلے یہ آخری موقع ہے جہاں میں اپنی مرضی کے مضامین پڑھ کر اپنی سوچ کو وسیع کر سکوں، یہی ٹارگٹ حاصل کیا۔

یہ الفاظ پاکستانی نژاد برطانوی طالبہ ماہ نور چیمہ کے ہیں جنھوں نے اے لیول کا امتحان 24 اے گریڈز کے ساتھ پاس کر کے ریکارڈ بنایا بلکہ اپنی قابلیت اور غیر معمولی ذہانت کے سبب انھیں آکسفرڈ یونیورسٹی میں داخلہ بھی پا لیا۔

18 سالہ ماہ نور چیمہ نے اے لیول کے امتحان میں عالمی سطح چار اور جی سی ایس ای کو ملا کر متعدد عالمی سطح کے ریکارڈ بنائے ہیں اور حال ہی میں اے لیول کا امتحان 24 اے گریڈز کے ساتھ پاس کر کے ایک ریکارڈ بنایا ہے۔

ماہ نور چیمہ نے اپنی کامیابی کے پیچھے اپنی والدہ کے کردار کو سراہا اور کہا کہ انھوں نے اس میں برابر کی محنت کی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماہ نور چیمہ نے کہا کہ مجھے پڑھائی کے حوالے سے کوئی مشکل نہیں تھی البتہ اتنے سارے سبجیکٹس کو ایک ساتھ پڑھنے کے لیے ٹائم ٹیبل بنانا ایک مشکل کام تھا مگر اس مشکل کام کو میری ماما (والدہ) نے آسان بنایا۔

ماہ نور نے اپنے اس خواب کو پانے کے لیے ریگولر سکول جانا چھوڑا اور ہوم سکولنگ شروع کی تاکہ آنے جانے کا وقت پڑھائی کے لیے بچ سکے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ماہ نور چیمہ نے اپنی تعلیمی قابلیت کا لوہا منوایا۔ اس سے قبل 16 سال کی عُمر میں بھی ماہ نور چیمہ نے ایک منفرد تعلیمی اعزاز حاصل کیا تھا کہ جب انھوں نے جی سی ایس سی (جنرل سرٹیفیکٹ آف سیکنڈری ایجوکیشن) کے 34 مضامین میں 99 فیصد ’اے سٹارز‘ حاصل کیے تھے۔

ماہ نور چیمہ اب عنقریب آکسفرڈ یونیورسٹی سے میڈیسن کی تعلیم حاصل کریں گی۔ زندگی کا نیا باب شروع ہونے پر ماہ نور ہی نہیں ان کے والدین بھی بے انتہا خوش ہیں۔

ماہ نور نے کم وقت میں اتنے مضامین میں ٹاپ کرنے کے سفر کو اس طرح بیان کیا۔

اپنے اس خواب کو پانے کے لیے ریگولر اسکول جانا چھوڑا اور ہوم اسکولنگ شروع کی تاکہ آنے جانے کا وقت پڑھائی کے لیے بچ سکے کیونکہ چار گھنٹے آنے اور جانے میں لگ جاتے تھے تب ماما نے کہا کہ ہوم اسکولنگ کرو زیادہ کارآمد رہے گا اور اپنے لیے وقت نکل آئے گا۔

ایک ٹائم پر ایک ہی مضمون کو ٹارگٹ کیا تاکہ مکمل فوکس رہے اور اس کے لیے کوئی ٹیوشن نہیں لیا۔ ماما کے ساتھ اکٹھے بیٹھ کر اس کو کور کیا۔ میری خواہش تو 30 سے 32 مضامین پڑھنے کی تھی مگر لوجسٹک کے مسائل سے 24 کر سکی۔

وہ کہتی ہیں کہ میں بس یہ جانتی تھی کہ یونی ورسٹی سے پہلے کا یہ آخری موقع ہے جہاں میں اپنی سوچ کو (Horizon) کو وسیع کر سکوں۔

کیمیسٹری اور بیالوجی دل سے قریب، فرینچ لینگویج پڑھ کر مزا آیا، تو اتنے بہت سے مضامین میں سے کس مضمون کو پڑھنا چیلینجگ رہا۔

اس سوال کے جواب میں ماہ نور نے بتایا کہ کہ ان کے لیے چیلینجگ تو نہیں لیکن سب سے زیادہ وقت فرنچ یعنی فرانسیسی زبان نے لیا۔

 فرنچ لینگویج میں ماحولیات سے کلچر، سیاست، یوتھ ہر پہلو کو پڑھنا ہوتا ہے تاہم اس کو میں نے انجوائے کیا۔ جرمن پڑھتے پڑھتے چھوڑنا پڑی کیونکہ اس کو پڑھنے سے دوسرے مضامین میں کلیش ہو رہا تھا لیکن دل سے قریب کیمیسٹری اور بیالوجی ہے کیونکہ یہی میں آگے بھی پڑھنا چاہ رہی ہوں۔

مجھے لگا کہ اپنی پسند کے ان تمام مضامین کو پڑھنے سے کریٹیکل تھنکنگ کی عادت ہوئی ہر موضوع پر بات کرنے کا حوصلہ ملا۔

ماہ نور کے مطابق آکسفرڈ میں داخلے کے لیے جب انٹرویو ہوا تو وہ 1000 فیصد پراعتماد تھیں کہ ان کو ایڈمیشن مل گیا ہے۔

’میں نے گھر والوں کو بتایا کہ بس سمجھیں ایڈمیشن ہو گیا ہے۔ اور جب اناؤنسمنٹ ہوئی تو ہم نے کیک کاٹا اور دوستوں اور فیملی کے ساتھ مل کر پارٹی کی۔‘

ماہ نور کے والدین بھی بیٹی کی اس خوشی پر بہت نازاں ہیں۔ ان کے والد بیرسٹر عثمان چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے لیے تو اس سال 14 اگست اتنی خوشی کا دن رہا کہ ایک طرف پاکستان کا آزادی کا جشن منایا تو دوسری طرف ماہ نور کے داخلے کی آفیشل کنفرمیشن کاو بھی سیلیبریٹ کیا۔‘

بیرسٹر چیمہ کہتے ہیں کہ ماہ نور نے جو ریکارڈ بنا لیے ہیں اس کو توڑنا تو شاید دیگر بچوں کے لیے بہت آسان نہ ہو گا۔

ہماری فیملی میں ہم نے ریکارڈز کو کبھی ترجیح نہیں بنایا۔ ماہ نور نے کہا کہ آپ ٹائم ٹیبل میں مدد کر دیں پڑھنا تو مسلہ نہیں۔

بیرسٹر چیمہ کے مطابق ماہ نور نے اپنی دلیلوں سے مجھے قائل کیا کہ آگے پریکٹیکل لائف ہے یہی وقت ہے کہ میں مختلف مضامین کو پڑھ کر ان کے بارے میں جان سکوں۔ پھر میں نے کہا جتنا عملی طور پر ممکن ہوا وہ ہم کر لیں گے۔

کئی بار ایسا ہوا کہ ایک ہی دن میں دو مضامین کے الگ الگ جگہ امتحان ہوئے لیکن وہ سب ماہ نور نے اپنی محنت سے ممکن بنایا۔دوسری جانب ماہ نور کی والدہ طیبہ چیمہ کا کہنا ہے کہ بیٹی کی آکسفرڈ سے کنفرمیشن آنے پر ہم سب نے فیملی ڈنر کیا اور اپنے وقت کو یادگار بنایا۔ ہمیں ایک فیصد بھی ماہ نور کے رد ہونے کا خدشہ دور دور تک نہیں تھا۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔