اسکولی اور برالدو کے عوام کا تاریخی احتجاج، کے ٹو کی سڑک بند

دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ K2، گاشر برم اور بالتورو گلیشیئر کے دامن میں بسنے والے اسکولی اور برالدو وادیوں کے عوام نے بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف باقاعدہ دھرنے کا آغاز کر دیا ہے، اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
برالدو کے نوجوان اور مقامی نمائندہ عارف حسین اسکولی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ K2 ٹریک، جو دنیا بھر سے آنے والے کوہ پیماؤں کے لیے واحد راستہ ہے، تین مختلف مقامات پر شدید متاثر ہو چکا ہے، جس کی مرمت نہ ہونے سے مقامی لوگوں اور سیاحوں دونوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کئی ہفتوں سے علاقے میں بجلی مکمل طور پر بند ہے، لیکن آج تک کسی نے اس کی وجہ بتانے یا مسئلہ حل کرنے کی زحمت نہیں کی۔ اس کے علاوہ، حالیہ سیلاب نے کورفے اور سینو دیہات کو ملانے والا واحد راستہ تباہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے یہ علاقے مکمل طور پر باقی دنیا سے کٹ چکے ہیں۔ اس صورتحال میں کسی بھی ہنگامی حالت میں لوگوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔
عارف حسین نے کہا کہ یہ سب مقامی لوگوں کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا اور کسی سیاح یا گاڑی کو K2 کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
احتجاج میں شریک افراد نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں جن پر "شرم کرو، برالدو سے وفاداری دکھاؤ” جیسے نعرے درج ہیں، جو ان کے جذبات اور عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
برالدو کے عوام کا مطالبہ ہے کہ K2 ٹریک کی فوری مرمت کی جائے، بجلی کی مستقل فراہمی کو یقینی بنایا جائے، اور کورفے و سینو دیہات کو دوبارہ مرکزی راستوں سے جوڑنے کے لیے سڑک کی فوری بحالی کی جائے۔ وہ حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لے اور فوری اقدامات کرے۔
یہ احتجاج صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی سیاحت، معیشت، اور بین الاقوامی ساکھ سے جڑا ہوا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ برالدو اور اسکولی کے عوام اپنے حقوق کے لیے پرعزم اور متحد ہیں، اور نوجوان عارف حسین اسکولی اس احتجاج میں ان کی آواز بن کر سامنے آئے ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












