اسکولی میں کے 2 روڈ پر احتجاج؛ بین الاقوامی سیاح بھی شامل،“بجلی دو، روڈ بناؤ” کے نعرے

پاکستان کے کے ٹو ریجن میں بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح مقامی افراد کے ساتھ احتجاج میں شامل ہونے پر مجبور ہو گئے۔
اس احتجاج کی وجہ برالدو ویلی میں سفر کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور ایک ہفتے سے جاری بجلی کی بندش تھی۔ مظاہرین اسكولی میں جمع ہوئے، جو کے ٹو کا داخلی دروازہ ہے، اور ناقص انفراسٹرکچر اور حکومت کی خاموشی پر شدید غصے کا اظہار کیا۔

مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک غیر ملکی سیاح نے کہاکہ ہمیں صرف زیادہ بجلی کی ضرورت ہے۔ ان کی مدد کریں کہ وہ نئی سڑک بنا سکیں۔ یہ مسائل حل کریں — یہاں آنا اور یہاں رہنا بہت مشکل ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں، ہم امید کرتے ہیں آپ یہ جنگ جیتیں گے۔

اس احتجاج کی اصل وجہ برالدو ویلی کے عوام کی مشکلات تھیں، جہاں لوگ ایک ہفتے سے بجلی کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پورے کے پورے گاؤں اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں اور کوئی سرکاری افسر اب تک مدد کو نہیں آیا۔
مظاہرین نے فوری طور پر بجلی کی بحالی اور ایک مستقل حل کا مطالبہ کیا تاکہ بار بار ہونے والی بندش سے نجات ملے۔ انہوں نے بدعنوانی اور نااہل ٹھیکیداروں کو کام دینے پر بھی شدید تنقید کی۔

کے ٹو روڈ کی حالت مزید خراب ہو چکی ہے، جہاں تین بڑے مقامات پر سڑک بند ہے جس کی وجہ سے خوراک کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور ایمرجنسی سروسز رک گئی ہیں۔ مقامی افراد نے اسے ایک انسانی بحران قرار دیا اور کہا کہ یہاں مہنگائی اسکردو سے تین گنا زیادہ ہو چکی ہے۔
مریض اسپتال نہیں پہنچ سکتے، اور ہنگامی مدد ممکن نہیں رہی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ کے ٹو روٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کم از کم ایک فیصد اس کی مرمت پر لگایا جائے۔

علاوہ ازیں، مظاہرین نے ہوٹو پل کو نئے اور محفوظ مقام پر دوبارہ تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا، جو ہفتوں سے بند ہے اور ایک خطرناک جگہ پر واقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرانی جگہ پر مرمت صرف پیسوں کا ضیاع ہو گی اور مسئلہ دوبارہ پیدا ہو گا۔
مقامی افراد نے زور دے کر کہا کہ برالدو میں یہ مسائل کئی دہائیوں سے نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ اب وہ ضلعی افسران اور منتخب نمائندوں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاکہ وادی کو مزید بحران سے بچایا جا سکے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









