پیر، 23-مارچ،2026
اتوار 1447/10/03هـ (22-03-2026م)

بجلی کے شعبے میں 4800 ارب کی بے ضابطگیاں بے نقاب

21 اگست, 2025 11:00

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی سالانہ آڈٹ رپورٹ (2024-25) میں بجلی کے شعبے میں 4800 ارب روپے کی مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کو اجاگر کرتے ہوئے اس سیکٹر میں شدید گورننس بحران کی نشاندہی کی ہے۔

یہ رپورٹ مالی سال 2023-24 سے متعلق ہے اور جلد ہی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے سامنے پیش کی جائے گی، رپورٹ میں کسی ایک اسکینڈل کی نہیں بلکہ مجموعی نظام کی ناکامی کو بیان کیا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق توانائی کے شعبے میں مسلسل قواعد کی خلاف ورزیاں، کمزور معاہدہ جاتی نظام اور ناقص نگرانی کے باعث قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچا، جبکہ کئی کیسز میں کھلے عام بدعنوانی اور چوری کے شواہد بھی سامنے آئے۔

6 کیسز میں 2212.95 ملین روپے کی چوری، خرد برد اور غبن سامنے آیا۔

86 کیسز میں 156141.88 ملین روپے کی معاہداتی و خریداری بے ضابطگیاں نوٹ کی گئیں۔

77 کیسز میں ادارہ جاتی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی مالیت 507242.82 ملین روپے رہی۔

90 کیسز میں وزارت توانائی (پاور ڈویژن)، وزارت خزانہ، کابینہ ڈویژن، ایکنک، اے جی پی اور نیپرا سمیت اہم اداروں کی قانونی خلاف ورزیوں کا حجم 957751.65 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ بجلی کے شعبے میں انتظامی سستی اور بدعنوانی صرف عوامی نقصان کا باعث نہیں بن رہی بلکہ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی کمزور کر رہی ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔