راوی اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ؛ قدرت نے اپنی اینٹی انکروچمنٹ ڈرائیو شروع کر دی

Ravi Urban Development Project; Qudrat launches its anti-encroachment drive
حکومت نے دریائے راوی، ستلج اور چناب کے کنارے بسنے والوں کو حالیہ سیلاب کے پیش نظر نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔
پاکستان کے مختلف علاقے ایک بار پھر شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہیں اور سب سے زیادہ متاثر وہ آبادیاں ہو رہی ہیں جو دریا کے کنارے واقع ہیں۔ انہی علاقوں میں چند سال قبل ماحولیاتی تحفظ اور جدید شہر کے وعدوں کے ساتھ راوی اربن منصوبے کا آغاز ہوا تھا، مگر آج یہ منصوبہ خود کئی سوالات کی زد میں ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان نے دو بڑے سیلاب 2010 اور 2022 کا سامنا کیا، جن میں مجموعی طور پر 3500 سے زائد افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ ہر بار سب سے زیادہ نقصان انھی لوگوں کو ہوا جو دریا کے قریب آبی گزرگاہوں کے آس پاس آباد تھے۔
رواں سال بھی صورت حال ماضی سے مختلف نہیں، دریائے راوی، ستلج اور چناب کے کنارے بسنے والے افراد حالیہ سیلاب کے پیش نظر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ دریائے راوی کی صورت حال خاص طور پر خطرناک ہے، جہاں پانی نے درجنوں بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
اسی دریا کے کنارے سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے سال 2020 میں ایک نئے شہر بسانے کا اعلان کیا جسے پاکستان کا پہلا ’گرین اور اسمارٹ سٹی‘ قرار دیا گیا تھا۔
#GreatRaviScam The Great Ravi Scam: Imran Khan’s biggest betrayal. Promoted as an “eco-city,” RUDA was in fact Pakistan’s largest land grab — destroying Lahore’s natural floodplain.@ImranKhanPTI stood by the Ravi & declared RUDA “the future of Lahore”.⁰#GreatRaviScam #RUDA 1/6 pic.twitter.com/YnDqgczGnU
— Iqbal Latif (@ilatif) August 27, 2025
اس مجوزہ شہر کے لیے سابق حکومت نے باضابہ طور پر راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا تھا۔
راوی سٹی منصوبہ: وعدے، دعوے اور حقیقت
اس منصوبے کی کئی سیاسی جماعتوں نے مخالفت کی تھی اور مقامی کسانوں نے اس پروجیکٹ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس پر عدالتت نے کسانوں کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت کو منصوبے پر کام کرنے سے روک دیا تھا۔
عدالت نے جنوری 2022 کو دریائے راوی کے کنارے پر نیا شہر بسانے کے منصوبے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے فیصلے میں کہا تھا کہ منصوبہ ماحولیاتی اثرات کے جامع تجزیے کے بغیر شروع کیا گیا تھا جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔
آپ ایک پارک ویو سوسائٹی کا رونا رو رہے ہیں۔ یہاں "فلیگ شپ” پروگرام راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کی کون کون سی زمینیں سیلاب کی نظر ہو رہی ہیں، اس پر موجودہ و سابقہ حکومتیں چپ ہیں کیونکہ اس میں سب مجرم ہیں، خواہ مریم نواز ہوں یا عمران خان یا پھر محسن نقوی اور پرویز الہیٰ۔۔۔… https://t.co/HzcLtRJ9t1
— Majid Nizami (@majidsnizami) August 27, 2025
لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد عمران خان نے خود دریائے راوی کے کنارے جا کر ایک ویڈیو ریکارڈ کرائی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دریائے راوی سکڑ کر گندے نالے کی شکل اختیار کر چکا ہے، لہٰذا اس کے اطراف جدید شہر بسانا وقت کی ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
راوی سٹی منصوبے پر سوشل میڈیا پر بھی بھرپور تنقیدی ردِعمل سامنے آیا، جہاں مختلف صارفین نے اسے ماحولیاتی تباہی، سیاسی مفادات اور قانونی خلاف ورزیوں سے جڑا ایک متنازع منصوبہ قرار دیا۔
صحافی ماجد نظامی نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ یہاں فلیگ شپ پروگرام راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی کون کون سی زمینیں سیلاب کی نذر ہو رہی ہیں، اس پر موجودہ و سابق حکومتیں خاموش ہیں، کیونکہ اس میں سب شریک ہیں۔
سوشل میڈیا صارف پروفیسر اسامہ صدیق نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ پنجاب کا اسپیشل پلاننگ قانون تاحال نافذ نہیں کیا گیا، جب کہ فلڈ پلینز مینجمنٹ قانون بھی ابھی تک نوٹیفائی نہیں ہوا۔ ان کے مطابق دریا کے راستے میں آبادیاں بسانا جرم ہے اور راوی اربن منصوبہ (روڈا) لالچ اور بدنیتی کی بدترین مثال ہے۔
پنجاب کا spatial planning law آج تک نافذ نہیں ہوا۔ پنجاب کا flood plains management law ابھی تک نوٹیفائی نہیں ہوا۔دریا کے رستے میں آبادیاں بسنے دینا جرم ہے۔اور یہ RUDA لالچ اور بدنیتی کی انتہا۔ اب قدرت نے اپنی anti encroachment drive شروع کر دی ہے۔سب ناجائز سوسائٹیاں بہہ جائیں گی pic.twitter.com/zmbFlDmvjo
— Osama Siddique (@DrOsamaSiddique) August 28, 2025
اسامہ صدیق نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ اب قدرت نے خود انسدادِ تجاوزات مہم شروع کر دی ہے اور تمام ناجائز سوسائٹیاں بہ جائیں گی۔
نجی ٹی وی کے ایک پروگرام کی میزبان ابصا کومل کا کہنا ہے کہ سیاسی لیڈران اور دیگر فیصلہ ساز ماحولیاتی تبدیلیوں کے مسئلے کی سمجھ نہیں رکھتے یا دانستہ طور پر نظر انداز کرتے ہیں کیونکہ دور اندیشی کی کمی ہے جو تمام فیصلہ سازی میں نظر آتی ہے۔
ابصا کومل کے مطابق راوی کے اطراف زرعی زمین پر بنائی ہاوسنگ سوسائٹیز گئی روڈا کی عمران خان رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کی طرح تشہیر کرتے رہے، موجودہ ن لیگی حکومت کی وزیراعلی مریم نواز نے روڈا پراجیکٹ میں آنے والی کچی آبادیوں کو منتقل کرنے کا ہی حکم دے دیا تاکہ پروجیکٹ آگے بڑھے اور پھر صحافیوں کو پلاٹ دیے۔
سیاسی لیڈران اور دیگر فیصلہ ساز ماحولیاتی تبدیلیوں کے مسلہ کی سمجھ نہیں رکھتے یا دانستہ طور پر نظر انداز کرتے ہیں کیونکہ دور اندیشی کی کمی ہے جو تمام فیصلہ سازی میں نظر آتی ہے۔
راوی کے اطراف زرعی زمین پر بنائی ہاوسنگ سوسائٹیز Ruda کی عمران خان رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کی طرح تشہیر کرتے… pic.twitter.com/Pwwzyohqzx— Absa Komal (@AbsaKomal) August 28, 2025
انھوں نے ’ایکس‘ پر اپنی ٹوئیٹ میں کہا کہ اس مسئلے پر صرف چند لوگوں نے آواز اٹھائی جیسا کہ صحافی بینظیر شاہ موحولیاتی ماہرین اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم جنہوں نے روڈا کے خلاف 25 جنوری 2022 کو فیصلہ دیا کہ کوئی ماسٹر پلان موجود نہیں، زمین کا حصول غیر قانونی، ماحولیاتی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہوئی۔
سرکاری ٹی وی چینل (پی ٹی وی) نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر ایک ویڈیو شئیر کی جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ دریائے راوی کے کنارے آباد لاہور کو بھی یوکو ہاما کی طرز پر ترقی دینا چاہتے ہیں۔
وزیرِاعلیٰ پنجاب کا جاپان کے تاریخی اور صنعتی شہر یوکو ہاما کی بندرگاہ کا دورہ
– وزیرِاعلیٰ پنجاب نے یوکوہاما کی ڈویلپمنٹ کو سراہا اور پورٹ آپریشنز کا مشاہدہ کیا۔
– وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کے حوالے سے آگاہ کیا۔
– دریائے راوی کے کنارے آباد… pic.twitter.com/tUdzqOwZdk
— PTV News (@PTVNewsOfficial) August 18, 2025
اگست 2025 کے اختتام پر دریا کنارے آبادیاں ایک بار پھر سیلاب کی زد میں ہیں، تو راوی اربن پروجیکٹ جیسے منصوبوں پر سوال دوبارہ کھڑا ہو رہا ہے کہ کیا یہ واقعی ماحولیاتی تحفظ کے لیے تھا یا صرف زمینوں کی بندربانٹ اور سیاسی مفادات کا ایک تجربہ؟ متاثرہ افراد کے لیے یہ وعدے اب صرف کاغذی دعوے محسوس ہوتے ہیں، جب کہ انہیں آج فوری تحفظ اور بحالی درکار ہے۔
بھارت سے آنے والے آبی ریلوں کے باعث راوی میں پانی کی سطح دو لاکھ کیوسک تک پہنچ چکی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق شاہدرہ، بارہ دری اور ملحقہ علاقوں میں پانی داخل ہو چکا ہے۔ اب تک ایک درجن سے زائد اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











