اتوار، 30-نومبر،2025
اتوار 1447/06/09هـ (30-11-2025م)

بنوں ایف سی لائنز پر خودکش حملہ؛ تین خودکش حملہ آور افغان شہری نکلے

08 ستمبر, 2025 16:32

بنوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر حالیہ دہشتگرد حملے میں شامل تین خودکش حملہ آوروں کی شناخت افغان شہریوں کے طور پر کر لی گئی ہے۔

تحقیقات کے مطابق حملے میں شامل پانچ میں سے تین دہشتگرد افغان باشندے تھے، جو براہ راست افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے۔ پہلا خودکش حملہ آور عبدالعزیز عرف قادِر مہاجر، افغانستان کے ضلع پکتیکا کے علاقے ماتا خان کا رہائشی تھا۔ اس حملہ آور کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ پاکستان میں حملہ کرنے کے لیے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مدد مانگ رہا ہے۔ ویڈیو کے مطابق وہ اس وقت افغانستان کے صوبہ ہلمند کے ضلع بارامچہ میں موجود تھا۔

دوسرا خودکش حملہ آور ملا شبیر احمد عرف مالویچ بلال مہاجر، ولد ملا اسمت اللہ افغانستان کے صوبے وردک کے ضلع سعید آباد کے گاؤں عبدالمحی الدین کا رہائشی تھا۔

تیسرا خودکش حملہ آور نجیب اللہ عرف حذیفہ مہاجر، ضلع خوست کے علاقے موسیٰ خیل سے تعلق رکھتا تھا۔ یہی حملہ آور دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی لے کر ایف سی لائنز میں گھسا اور خودکش دھماکہ کیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کئی مہینوں سے بین الاقوامی برادری کو یہ آگاہی دیتا آ رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ خاص طور پر افغان مہاجرین کے کچھ عناصر دہشتگردوں کو سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان سے پاکستان آنے والے 70 سے 80 فیصد نئے "تشکیل” (دہشتگرد عناصر) افغان شہریوں پر مشتمل ہوتے ہیں، جو منظم انداز میں پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب ریاست افغانستان میں موجود دہشتگرد کیمپس کے خلاف کوئی کارروائی کرنے یا افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل شروع کرتی ہے، تو فوراً ایک مخصوص حلقہ بلند آواز میں شور مچانا شروع کر دیتا ہے۔ یہ تمام عناصر دہشتگردوں کے لیے ایک انسانی حقوق کی ڈھال بن جاتے ہیں اور ریاست کی عملی و سیکیورٹی کارروائیوں کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حلقے نہ صرف دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں بلکہ بیرونی مالی سرپرستوں سے فنڈنگ بھی حاصل کرتے ہیں، جب کہ پاکستان مسلسل دہشتگردی کا نشانہ بنتا رہتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستانی عوام کب تک ان عناصر کی چالوں کو نظر انداز کرتی رہے گی، جو معصوم شہریوں کی لاشوں پر اپنی سیاست اور مالی مفادات حاصل کر رہے ہیں؟ اور عالمی برادری کب تک افغان حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کو دی جانے والی مبینہ معاونت کو نظر انداز کرتی رہے گی؟

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔