پیر، 1-دسمبر،2025
اتوار 1447/06/09هـ (30-11-2025م)

سانحہ کارساز کو 18 برس بیت گئے، زخم آج بھی تازہ

18 اکتوبر, 2025 08:07

کراچی: آج سے 18 سال قبل 18 اکتوبر 2007 کو سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو وطن واپسی پر کراچی میں ایک تاریخی استقبالی جلوس سے خطاب کے لیے روانہ ہو رہی تھیں کہ کارساز کے مقام پر ان کے قافلے پر دو خوفناک دھماکے ہوئے۔

ان دہشت گرد حملوں میں 177 کارکن شہید اور 600 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ محترمہ بینظیر بھٹو اور پارٹی قیادت معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔

بینظیر بھٹو کئی سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچی تھیں، اور ان کے استقبال کے لیے ملک بھر سے جیالے کراچی میں جمع تھے، عوامی جوش و جذبے کا یہ منظر تاریخ کا حصہ بن گیا، تاہم شام ڈھلتے ہی خوشیوں کا یہ اجتماع ایک قیامت میں بدل گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق جب استقبالی قافلہ شارع فیصل پر کارساز کے قریب پہنچا تو اچانک دھماکوں کی آوازوں سے فضا گونج اٹھی، درجنوں گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور ہر طرف افرا تفری پھیل گئی۔

دھماکے اتنے شدید تھے کہ 20 شہدا کی شناخت کئی ہفتوں تک ممکن نہ ہو سکی، جنہیں بعد ازاں “میں بھٹو ہوں” کے عنوان سے گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

اگرچہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو مالی امداد، ملازمتیں اور رہائشی فلیٹس فراہم کیے گئے، تاہم سانحے کے اصل ذمہ داروں کا سراغ آج تک نہ لگایا جا سکا۔

18 برس بعد بھی یہ سانحہ نہ صرف تاریخ کے اوراق میں زندہ ہے بلکہ کارکنوں کے دلوں پر تازہ زخم کی مانند نقش ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔