حکومت کا نیٹ میٹرنگ کی قیمت 22 روپے سے کم کرکے 11.30 روپے فی یونٹ کرنے پر غور
وزیراعظم کی ہدایت پر تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی کی تیاری
اسلام آباد: سردیوں میں دن کے اوقات میں بجلی کی طلب میں کمی اور دھوپ سے اضافی بجلی پیدا ہونے کے خدشے کے پیش نظر حکومت نے نیٹ میٹرنگ کی قیمت میں نمایاں کمی پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نیٹ میٹرنگ کی موجودہ قیمت 22 روپے فی یونٹ کو کم کرکے 11.30 روپے فی یونٹ کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے، جبکہ وزیراعظم نے اس حوالے سے متعلقہ حکام کو قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق نیٹ میٹرنگ اسکیم نے گرڈ سے وابستہ صارفین پر مالی بوجھ میں اضافہ کر دیا تھا، جو فی یونٹ دو روپے تک پہنچ گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کے تیزی سے بڑھنے کے باعث گرڈ کے ذریعے بجلی کی فروخت میں 3.2 ارب یونٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو 101 ارب روپے کا نقصان ہوا اور بجلی کے ٹیرف میں 0.9 کلو واٹ آور تک اضافہ کرنا پڑا۔
پاور ڈویژن کے تخمینے کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو مالی سال 2034 تک یہ کمی 18.8 ارب یونٹس تک پہنچ سکتی ہے، جس کا 545 ارب روپے مالی اثر ہوگا، اور صارفین پر اس کا بوجھ 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک پڑ سکتا ہے۔
عہدیداروں کے مطابق یہ معاملہ اب ایک سنگین قومی مسئلہ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس پر وزیراعظم نے براہِ راست مداخلت کرتے ہوئے جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے۔
ذرائع کے مطابق 22 اکتوبر کو منعقدہ اجلاس میں وزیراعظم نے نیپرا اور پاور ڈویژن کو ہدایت دی کہ وہ بائی بیک ٹیرف کا تفصیلی تجزیہ کریں اور اس کی تصدیق یقینی بنائیں، کیونکہ موجودہ نظام سولر صارفین کے لیے بیٹری اسٹوریج کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









