بھارتی خفیہ ایجنسی نے پاکستانی ماہی گیر کو گرفتار کرکے اپنے لیے کام کرنے پر مجبور کیا، عطا تار
India cannot forget the defeat on the battlefield, Attatur
وزیراطلاعات عطاتارڑ کا کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی نے پاکستانی ماہی گیر کو گرفتار کرکے اپنے لیے کام کرنے پر مجبور کیا۔
وزیراطلاعات عطاتارڑ نے وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارت نے مس انفارمیشن پھیلائی، بھارت میدان جنگ میں شکست کو بھلا نہیں پارہا۔
انہوں نے کہا کہ تمام بھارتی میڈیا جھوٹا بیانیہ پھیلانے میں مصروف ہے، بھارت نے اعجاز ملاح نامی مچھیرے کو گرفتار کیا، انڈین انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اعجاز ملاح کو ٹاسک دے کر پاکستان بھیجا، بھارت پاکستان کی معرکہ حق میں فتح کو ہضم نہیں کرسکا۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اعجاز ملاح نے آرمی، رینجرز، نیوی کی وردیاں خریدیں تو پاکستان نے نگرانی کی، اس معاملے کو عالمی سطح پر بھی اٹھایا جائے گا۔
دوسری جانب وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد پاکستان کیخلاف کچھ نہ کچھ جاری ہے، پہلے آپریشن سندور اب آپریشن پروپیگنڈا چلایا جارہاہے، اعجاز ملاح کو بھارتی کوسٹ گارڈ نے حراست میں لیا، اعجاز ملاح سے فوجی وردیاں، سگریٹ، لائٹر، کرنسی ودیگر چیزیں منگوائی گئیں، پاکستانی ادارے چوکنا ہیں، دشمن کی ہرحرکت پر نظر ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت شکست کے بعد دوبارہ کچھ پلان کرنے کی کوشش کررہاہے، بھارت کے گودی اور پاکستان کے ذمہ دار میڈیا کا تقابلی جائزہ لیا جاسکتا ہے، اعجاز ملاح کو بھارتی کوسٹ گارڈ نے گرفتار کرکے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا، اعجاز ملاح کو95ہزار روپے دینے کے ثبوت موجود ہیں، پہلگام میں بھی بھارت نے چائینز سیٹلائٹ کا ذکر کیا، زونگ سم کے استعمال کا مقصد چین کے خلاف بیانیہ بناناہے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کابل میں ہوٹل کا پانچواں فلور آئی ایس آئی کے پاس ہے، ہم نے تصویر چلائی کہ کابل کے اس ہوٹل کے صرف 2فلور ہیں، پاکستانی میڈیا نے انفارمیشن کی جنگ جیت لی، ہم خودمختار ملک ہیں، ہماری سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہیں ہوتی، پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور دوسروں کی خودمختاری کااحترام کرتاہے۔
اعجاز ملاح کا اعترافی بیان
ضلع ٹھٹہ کے رہائشی اور خاندانی مچھیرا، اعجاز ملاح نے اپنی گرفتاری اور بھارتی کوسٹ گارڈ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں تفصیلات شیئر کی ہیں۔ اعجاز ملاح کے مطابق وہ اگست 2025 میں دریا میں مچھلی پکڑنے کے دوران بھارتی کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ گرفتاری کے وقت بھارتی حکام نے ان سے کہا کہ وہ جس جرم میں گرفتار ہیں، اس میں ان کی رہائی میں دو سے تین سال لگ سکتے ہیں۔
اعجاز ملاح نے مزید بتایا کہ بھارتی اہلکاروں نے ان سے کہا کہ اگر وہ ان کے لیے کام کریں تو ان کی رہائی فوراً ممکن ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، انہیں پیسوں اور انعام کا لالچ بھی دیا گیا۔ پیسوں کی لالچ کے سبب، اعجاز ملاح نے ان کی بات ماننے پر رضا مندی ظاہر کی۔

اعجاز ملاح کے مطابق اس کے بعد بھارتی حکام نے انہیں رہا کر دیا اور انہیں مخصوص سامان فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ ان سے کہا گیا کہ وہ نیوی، رینجرز، اور آرمی کی وردیاں، تین زونگ کی سمز، تین موبائل دکان کے بل، پاکستانی ماچس، سگریٹ کے ڈبے، لائٹر اور 100 اور 50 والے پرانے نوٹ لے کر آئیں۔ اس کے بعد اعجاز ملاح کو رہا کر دیا گیا۔
اعجاز ملاح نے کہا کہ انہوں نے پاکستان واپس پہنچ کر بھارتی حکام کی ہدایات کے مطابق تمام سامان اکھٹا کیا اور پھر خفیہ ایجنسی کے افسر اشوک کمار کو تصویر بھیجی۔ اکتوبر میں جب وہ سامان لے کر دریا کی طرف دوبارہ روانہ ہوئے، تو پاکستانی حکام نے انہیں گرفتار کر لیا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










