پاکستانی مچھیرا بھارتی ایجنسی کے لیے جاسوسی کرتے پکڑا گیا
پاکستانی مچھیرا بھارتی ایجنسی کے لیے جاسوسی کرتے پکڑا گیا
پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے بھارتی خفیہ ایجنسی کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک پاکستانی مچھیرا گرفتار کر لیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن سندور کی ناکامی اور عالمی سطح پر پاکستان کے ہاتھوں رسوائی کے بعد بھارت نے پاکستان کو بدنام کرنے کی منظم مہم شروع کر رکھی ہے، جس کی ایک ناکام کوشش کو ہماری مستعد ایجنسیوں نے بے نقاب کر دیا ہے۔
بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی نے ایک پاکستانی مچھیرا کو پاکستان رینجرز، نیوی اور آرمی کی وردیاں اور دیگر سامان خرید کر بھارت پہنچانے کا ٹاسک دیا تھا، سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس منصوبے کا سراغ لگایا اور مجرم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔
پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیاں گہرے سمندری پانیوں میں بھارتی ایجنسیوں کی مشکوک حرکات پر پہلے ہی نظر رکھے ہوئے تھیں، اکتوبر 2025 میں مسلسل نگرانی کے بعد ایک بظاہر عام مچھیرا اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ افواج کی وردیاں اور مشکوک سامان کشتی کے ذریعے بھارت سمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم اعجاز ملاح گہرے پانی میں مچھلیاں پکڑنے والا ایک غریب مچھیرا ہے جو بھارتی خفیہ ایجنسی کے لالچ میں آ گیا۔
اس نے اپنے بیان میں بتایا کہ ستمبر 2025 میں بھارتی کوسٹ گارڈ نے اسے مچھلی پکڑتے ہوئے گرفتار کیا، بعد ازاں ایک نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا جہاں بھارتی انٹیلیجنس اہلکاروں نے اسے بتایا کہ اسے بھارت میں دو سے تین سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
بھارتی اہلکاروں نے اسے پیشکش کی کہ اگر وہ پاکستان کے اندر ان کے لیے کام کرے تو اسے رہا کر دیا جائے گا، جس پر اس نے لالچ اور دباؤ میں آ کر رضامندی ظاہر کی، اسے ہدایت دی گئی کہ وہ پاکستان جا کر مخصوص سامان خریدے اور کشتی کے ذریعے بھارت پہنچائے۔
تحقیقات کے مطابق پاکستان نے اس مچھیرے اور اس کے بھارتی ہینڈلر کے درمیان وائس چیٹ بھی حاصل کر لی ہے جس میں اسے چھ فوجی وردیاں، نام کی پٹیاں، تین زونگ سم کارڈ، سگریٹ کے پیکٹ، ماچس، لائٹر اور پاکستانی کرنسی کے 100 اور 50 کے نوٹ فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
اعجاز نے کراچی کی مختلف دکانوں سے یہ سامان خریدا اور اس کی تصاویر بھارتی انٹیلیجنس کو بھجوائیں، اسے تصاویر کے بدلے 95 ہزار روپے ادا کیے گئے، جبکہ مزید رقم سامان بھارت پہنچانے کے بعد دینے کا وعدہ کیا گیا، اکتوبر کے آغاز میں وہ یہ سامان بھارت پہنچانے کے لیے روانہ ہوا لیکن پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا۔
ذرائع کے مطابق بھارتی سیاسی قیادت آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد ریاستی انتخابات سے قبل ایک فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہی تھی تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جا سکے، بھارتی انٹیلیجنس کی جانب سے فراہم کردہ پاکستانی اشیاء ممکنہ طور پر کسی جعلی کارروائی میں استعمال کی جانی تھیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ پاکستان بھارت میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
پاکستان نیوی اور سندھ رینجرز کی مخصوص وردیوں کی طلب سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جعلی کارروائی بھارتی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں خصوصاً کچھ یا بھوج میں کی جانے والی فوجی مشقوں کے دوران کی جا سکتی تھی۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بھارتی سازش کا مقصد نہ صرف پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا تھا بلکہ ممکنہ طور پر پاکستانی فوجیوں کی جعلی گرفتاری یا جھوٹے شواہد پیش کر کے پاکستان مخالف پروپیگنڈا پھیلانا بھی شامل تھا۔
پاکستان نے اس بھارتی منصوبے کے تمام شواہد اکٹھے کر کے اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ شیئر کر دیے ہیں تاکہ بھارت کے مذموم عزائم کو دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










