پی آئی اے انجینئرنگ تنازع شدت اختیار کر گیا، انتظامیہ اور انجینئرز آمنے سامنے
پی آئی اے انجینئرنگ تنازع شدت اختیار کر گیا، انتظامیہ اور انجینئرز آمنے سامنے
کراچی: قومی ایئرلائن میں انجینئرنگ شعبے کے کام چھوڑنے کے معاملے پر پی آئی اے انتظامیہ اور ایئرکرافٹ انجینئرز کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز پاکستان (سیپ) کا کہنا ہے کہ وہ پی آئی اے کی نجکاری کے مخالف نہیں بلکہ اس کے حامی ہیں۔
تنظیم کے مطابق ان کا احتجاج کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری مسائل کی نشاندہی ہے۔
دوسری جانب ترجمان پی آئی اے نے سیپ کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اس تحریک کا اصل مقصد پی آئی اے کی نجکاری کو سبوتاژ کرنا اور انتظامیہ پر ناجائز دباؤ ڈالنا ہے۔
ترجمان نے الزام لگایا کہ سیفٹی کا بہانہ بنا کر ایک منظم منصوبے کے تحت بیک وقت کام چھوڑنا ایک مذموم سازش ہے، جس کا مقصد مسافروں کو پریشانی میں ڈالنا ہے۔
پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لازمی سروسز ایکٹ کے تحت ہڑتال یا کام چھوڑنا قانونی جرم ہے، اور اس عمل میں شامل تمام عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ترجمان کے مطابق انتظامیہ نے پروازوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے متبادل انجینئرنگ خدمات دوسری ایئرلائنز سے حاصل کرنا شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی آئی اے حکام نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا ہے تاکہ انجینئرنگ آپریشنز کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










