صنعتی پالیسی میں معیشت کی بہتری کیلئے انسانی سرمائے کو ترقی دی جائے:ماہرین
اسلام آباد: ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پیداواری شعبہ ماحول دوست طریقوں کو اپنائے تومعیشت بھی پائیدار سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے جنوبی ایشیائی خطہ میںشدید ماحولیاتی دباواور توانائی کے عدم توازن کی وجہ سے ہندوکش ہمالیہ (HKH) میں ایس ڈی جی 7 کے حصول کےلئے آٹھ ملکی تعاون ناگزیر ہے۔ حکومت تعلیم بجٹ کو 4 فیصد کرنے اور سکول سے باہر 2 کروڑ 60 لاکھ بچوں کو سکولوں میں لانے کےلئے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے۔ پاکستان کو جی ڈی پی پر مبنی ترقی کے ماڈل سے نکل کر ایسا نظام اپنانا ہوگا جو انسانی سرمایہ، قدرتی وسائل اور معاشرتی بہبودکو بھی ترقی کا حصہ سمجھے۔ان خیالات کا اظہار ماہرین اورمقررین نے سالانہ پائیدار ترقی کانفرنس کے تیسرے روز مختلف اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ماحول دوست صنعت کاری کے فروغ سے متعلق علاقائی مکالمے میں کے دوران ایڈیشنل سیکریٹری وزارتِ صنعت و پیداوار آصف سعید لغمانی نے کہا کہ نئی صنعتی پالیسی میں ماحول دوستی کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے تاکہ نئی اور موجودہ صنعتیں ماحول دوست پیداوار کی طرف منتقل ہو سکیں۔سٹیٹ بینک کے سینئر جوائنٹ ڈائریکٹر فیصل شفا ت نے کہا کہ نجی شعبہ پائیدار اقتصادی سرگرمی کا بنیادی محرک ہے اس لئے اسے خصوصی مراعات دی جارہی ہیں۔نیپال کے ساو ¿تی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر پراس کھریر نے زور دیا کہ صنعتی پالیسیاں کاربن کمی کے اہداف سے ہم آہنگ کی جائیں۔آٹوموٹیو ایم ایف جی پرائیویٹ لمیٹڈ کے سی ای او انجینیئر محمد عبدالجبار نے تجویز دی کہ ٹیکسونومی اور گرین انڈسٹریلائزیشن کی نگرانی وفاق براہِ راست کرے۔ صوبیہ بیکر نے کہا کہ صنعتی پالیسی کو ماحولیات کے تناظر میں مزید مو ¿ثر بنانا ہوگا۔او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل عبدالعلیم ،ایس جی ایس پاکستان کی جی ایچ جی لیڈ آڈیٹر کنول شہزادی نے ڈیٹا کے شفاف تبادلے پر زور دیا۔گول میز اجلاس میں قانون سازوں، سفارت کاروں اور بینکاری ماہرین نے کہا کہ پاکستان کے کلائمیٹ فنانس آرکیٹیکچر کو فوری مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مالیاتی نظام کو سبز اور لچکدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔بنگلہ دیش کے سفیر فیاض مرشد قاضی اور قومی اسمبلی کی رکن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے حکمرانی کی کمزوری، مالیاتی دباو اور پارلیمانی و مقامی سطح پر ماحولیاتی مباحثے کے فقدان کو بڑی رکاوٹیں قرار دیا۔سٹیٹ بینک کے فیصل شفات اوربینک آف پنجاب کے چیف رسک افسر ارسلان محمد اقبال نے ایس ایم ایز کےلئے گرین فنانسنگ اور رسک شیئرنگ سہولتوں میں اضافے پر زور دیا۔ایس ڈی پی آئی کے خالد ولید نے ماحولیاتی مالیاتی انصاف کا 10 نکاتی فریم ورک پیش کیا۔ دوسرے مباحثہ میں ماہرین نے زور دیا کہ ہندوکش ہمالیہ (HKH) میں ایس ڈی جی 7 کے حصول کےلئے آٹھ ملکی تعاون ناگزیر ہے کیونکہ خطہ شدید ماحولیاتی دباواور توانائی کے عدم توازن سے دوچار ہے۔ ہندوکش ہمالیہ میں پائیدار ترقی ہدف7 کے حصول کے حوالے سے مباحثہ میں یواین ایسکیپ، آئی سی آئی موڈ اور پی پی آئی بی کے نمائندوں نے خطے کی توانائی صلاحیت اور چیلنجز پر جامع گفتگو کی۔آئی سی آئی موڈ کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایزابیلا کزیئل نے کہا کہ ہندوکش ہمالیہ میں پن بجلی، شمسی اور ہوا کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے علاقائی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ ماہرین نے کہا کہ جامع توانائی پالیسی، تحقیق و ترقی، ڈیجیٹلائزیشن، پانی و توانائی کے مربوط انتظام اور خطے کے مابین اعتماد سازی کے بغیر پیش رفت ممکن نہیں۔ ریاض فتیانہ نے خطے کی بے پناہ مگر غیر استعمال شدہ صلاحیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ توانائی تجارت اور تعاون ہی مشترکہ چیلنجز کا حل ہے۔ شرح نمو کی بہتری کے موضوع پر منعقدہ سیشن میں خطاب کرتے ہوئے اکانومسٹ ظفرالحسن نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ گروتھ کھپت، قرضوں اور ترسیلات پر چلتی ہے جس کی وجہ سے انسانی سرمایہ اور قدرتی وسائل نظر انداز ہو جاتے ہیں اور ملک بار بار معاشی بحران اور آئی ایم ایف پروگراموں میں پھنس جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25 کروڑ آبادی کے لئے تعلیم، ہنرمندی اور روزگار کو سب سے اہم ترجیح بنانا ہوگا۔یو این ای پی کے ڈاکٹر پشپم کمار نے کہا کہ جی ڈی پی ترقی کا معیار نہیں پاکستان کو اب قدرتی و انسانی سرمایہ کو بھی ترقی کا پیمانہ بنانا ہوگا۔ اس موقع پرپلاننگ کمیشن کے سابق افسر ڈاکٹر محمد خورشید اورPIDE سے محمد فاروق نے زور دیا کہ پاکستان کو گرین، بلیو اور براون اکانومی کی طرف بڑھنا ہو گا۔ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے منعقدہ سیشن میں ماہرین اور پینلسٹس نے زور دیا کہ پاکستان میں لڑکیوں کی شرحِ خواندگی بہتر بنانے کے لئے وفاقی اور صوبائی بجٹ میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے الگ اور مخصوص بجٹ لائن قائم کی جائے۔ملالا فنڈ پاکستان کی چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر نشاط ریاض نے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وسائل کی کمی اور ریاست کی کمزور ترجیحات لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔وفاقی وزارتِ تعلیم کی پارلیمانی سیکرٹری فراح ناز نے کہا کہ حکومت تعلیم بجٹ کو 4 فیصد کرنے اور سکول سے باہر 2 کروڑ 60 لاکھ ا بچوں کو سکولوں میں لانے کے لئے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے۔ورلڈ بینک کی ایجوکیشن اسپیشلسٹ ملیحہ حیدر نے ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال اور اساتذہ کی تربیت پر زور دیا۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کے ڈی جی ڈاکٹر شاہد سرویا نے کہا کہ SDG-6 کے مطابق تعلیم کا بجٹ 6 فیصد جی ڈی پی تک ہونا چاہئے۔ کانفرنس کے دوران مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے موضوع پر گول میز اجلاس میںپی ٹی اے کے ڈی جی ڈاکٹر مکرم خان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت 30 فیصد ملازمتوں کو متاثر کر چکی ہے اور مستقبل میں اس میں مذید اضافہ ہوگا۔ترکی کے ماہر معاشیات پروفیسر طلحہ نے کہا مصنوعی ذہانت کے ذریعے فیصلوں کو زیادہ منصفانہ اور شفاف بنایا جا سکتا ہے۔ جاز کے گروپ چیف سید ظاہر مہدی نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مصنوعی ذہات نے ڈیٹا گورننس اور محفوظ انفراسٹرکچر کےلئے استعمال کیا جائے۔بین الاقوامی ICT کنسلٹنٹ پرویز اختر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل نہیں، حال ہے اور پاکستان کو تیزی سے اس کی طرف بڑھنا ہوگا۔پالیسی ماہر احمد قادر نے خبردار کیا کہ جلد بازی پر مبنی ریگولیشن ترقی کو نقصان پہنچا سکتی ہے اس لئے پرائیویسی اور ڈیٹا مینجمنٹ پر مبنی ہدفی قوانین بنانے ہوں گے۔ پالیسی ایکسپرٹ بلال انور نے اوپن اسپیکٹرم، ٹیکس اصلاحات اور مارکیٹ لبرلائزیشن کو ڈیجیٹل ترقی کے اہم عناصر قرار دیا۔بریگیڈیئر (ر) محمد یاسین نے کہا کہ کنیکٹیویٹی آج کی معیشت، حکمرانی اور قومی سلامتی کی بنیاد ہے اور پاکستان کو ڈیجیٹل مستقبل میں موثر کردار کے لئے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










