اتوار، 30-نومبر،2025
ہفتہ 1447/06/08هـ (29-11-2025م)

27 ویں آئینی ترمیم میں آئینی عدالت اور کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ متعارف کرانے پر غور

07 نومبر, 2025 11:11

اسلام آباد: حکومت نے آئینی اصلاحات کے تحت 27 ویں آئینی ترمیم کا نیا منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں ایک آئینی عدالت کے قیام اور "کمانڈر آف ڈیفنس فورسز” کے عہدے کو متعارف کرانے کی تجویز شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ آئینی عدالت میں 7 ججز کی تعیناتی کی تجویز کی گئی ہے، جن کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال ہوگی، جو کہ موجودہ سپریم کورٹ کے ججز کی عمر سے تین سال زیادہ ہے، آئینی عدالت کے ججوں میں پانچ ججز سپریم کورٹ سے منتخب کیے جائیں گے، جبکہ دیگر ججز کو ہائی کورٹ سے بھی منتخب کیا جا سکتا ہے، خصوصاً بلوچستان اور سندھ ہائی کورٹ کے ججز کو زیر غور لایا جا رہا ہے۔

حکومتی ذرائع نے بتایا کہ یہ آئینی عدالت صرف آئینی معاملات پر توجہ مرکوز کرے گی، جس سے سپریم کورٹ پر موجود مقدمات کا بوجھ کم ہوگا اور آئینی تنازعات کے فیصلوں کی رفتار میں تیزی آئے گی۔

یاد رہے کہ آئینی عدالت کا یہ تصور پہلے میثاقِ جمہوریت 2006 میں پیش کیا گیا تھا، تاہم اب اسے آئینی اصلاحات کے ایک حصے کے طور پر دوبارہ زیر غور لایا جا رہا ہے۔

آئینی عدالت کا قیام اسلام آباد ہائی کورٹ یا فیڈرل شریعت کورٹ کی عمارت میں متوقع ہے۔ اگر پہلی تجویز کو اپنایا گیا تو اسلام آباد ہائی کورٹ کو اپنی موجودہ عمارت سے منتقل کرکے نئی جگہ پر منتقل کر دیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ، حکومت نے دفاعی اصلاحات کے ضمن میں "کمانڈر آف ڈیفنس فورسز” کے نئے عہدے کے قیام پر بھی غور شروع کر دیا ہے، اس تجویز کا مقصد تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی اور مشترکہ کمانڈ کو مزید مستحکم کرنا ہے، تاکہ بدلتی ہوئی جنگی صورتحال اور جدید آپریشنل ضروریات کے پیش نظر بہتر حکمت عملی تیار کی جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم آرٹیکل 243 میں کی جائے گی، اور اس کے ذریعے فوجی کمانڈ کے نظام کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔