اگر گاڑی کے سابق مالک کو ای چالان موصول ہوجائے تو وہ کیا کرے؟ مکمل تفصیلات سامنے آگئیں
How to Check e-Challan Online?
کراچی میں ٹریفک پولیس نے ان شہریوں کے لیے واضح ہدایات جاری کی ہیں جو اپنی گاڑیاں فروخت کرنے کے باوجود ای چالان وصول کر رہے ہیں۔
یہ مسئلہ اس وقت پیش آ رہا ہے جب گاڑیوں کے نئے مالکان نے گاڑیوں کو اپنے نام پر منتقل نہیں کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پرانے مالکان کو ٹریفک کی خلاف ورزیوں کا ای چالان موصول ہوتا ہے۔
حال ہی میں ایک شہری کو ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، جس نے برسوں پہلے اپنی گاڑی فروخت کی تھی لیکن اس کے نام سے ای چالان آنا شروع ہو گئے۔
کراچی ٹریفک پولیس کے ڈی ایس پی ایڈمن کاشف ندیم نے اس مسئلے کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ جب تک گاڑی کی ملکیت باضابطہ طور پر منتقل نہیں کی جاتی، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے نظام میں وہ گاڑی پہلے مالک کے نام پر ہی ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ اس وجہ سے ٹریفک کی خلاف ورزیوں کا چالان پہلے مالک کو موصول ہوتا ہے۔
حل کیا ہے؟
ڈی ایس پی کاشف ندیم نے بتایا کہ جو لوگ اپنی گاڑی فروخت کرنے کے بعد ای چالان وصول کر رہے ہیں، انہیں کراچی کے قریب ترین ٹریفک پولیس سہولت سینٹر پر جانا چاہیے۔ وہاں جا کر انہیں گاڑی کی فروخت کی تاریخ کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا اور درخواست دینی ہوگی کہ ان کے نام سے گاڑی کی ملکیت ہٹائی جائے۔
سہولت سینٹر کے افسر گاڑی کا نمبر ‘انکوائری موڈ’ میں رکھ کر سیف سٹی سسٹم میں معلومات ڈالیں گے۔ اس عمل سے ای چالان کی کارروائی کو 8 سے 10 دنوں تک روک دیا جائے گا۔ اس دوران، شہری کو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے سہولت سینٹر پر جا کر ضروری دستاویزات فراہم کرنی ہوں گی۔
کون سی دستاویزات درکار ہوں گی؟
فروخت کا ثبوت (رسید، حلف نامہ یا ٹرانسفر سلپ)
خریدار کا شناختی کارڈ
گاڑی کی رجسٹریشن دستاویزات
ان دستاویزات کی تصدیق کے بعد ایکسائز کے اہلکار سابق مالک کی بائیو میٹرک تصدیق کریں گے۔ اس تصدیق کے بعد سیف سٹی سسٹم نئے مالک کا ریکارڈ اپ ڈیٹ کر دے گا اور ای چالان بھیجنا بند کر دے گا۔
ملکیت کی منتقلی نہ کرنے پر جرمانہ
ڈی ایس پی کاشف ندیم نے کہا کہ موجودہ مالک کو گاڑی خریدنے کے 30 دن کے اندر اپنے نام پر گاڑی منتقل کروانی ہوتی ہے۔ اگر یہ عمل مکمل نہ کیا جائے تو اس کے نتیجے میں بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں جو وقت کے ساتھ بڑھتے رہتے ہیں۔
اگر گاڑی کی ملکیت منتقل نہ کی جائے تو اسے بلیک لسٹ کیا جا سکتا ہے، اور اس کے بعد گاڑی کو ضبط کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جرمانے گاڑی کی اصل قیمت سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔
مناسب قانونی عمل کی اہمیت
کاشف ندیم نے شہریوں سے درخواست کی کہ وہ گاڑی کی ملکیت کی منتقلی کو اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری سمجھیں۔ اس سے نہ صرف وہ خود کو قانونی پیچیدگیوں سے بچا سکتے ہیں، بلکہ ٹریفک پولیس اور ایکسائز کی کارروائیوں سے بھی بچ سکتے ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










