ہفتہ، 29-نومبر،2025
ہفتہ 1447/06/08هـ (29-11-2025م)

پاکستان کا دوٹوک مؤقف اور ذبیح اللہ مجاہد کا گمراہ کن بیان، استنبول مذاکرات کی اصل حقیقت

08 نومبر, 2025 15:52

استنبول: پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات ایک بار پھر ناکامی کا شکار ہو گئے۔ ان مذاکرات کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنانا تھا، تاہم فریقین کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ترکیہ اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ پاکستان نے سنجیدگی کے ساتھ بات چیت میں حصہ لیا اور واضح مؤقف اپنایا کہ افغان حکومت کی صرف زبانی یقین دہانیاں اب کافی نہیں۔ پاکستان نے کہا کہ تعاون تب ہی ممکن ہے جب معاہدہ تحریری، قابلِ پیمائش اور قابلِ نفاذ ہو۔

پاکستان نے اپنے مطالبات بھی واضح کیے۔ ان میں سب سے اہم مطالبہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی، ان کے رہنماؤں کی حوالگی، اور تحریری یقین دہانی شامل تھی۔ پاکستان نے کہا کہ یہ مطالبہ کسی ملک کی خودمختاری کے خلاف نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہے۔

افغان وفد نے تاہم ایک بار پھر مذاکرات کے آخری مرحلے میں کوئی عملی قدم اٹھانے سے انکار کر دیا۔ اس کے باعث مذاکرات ایک بار پھر ڈیڈلاک کا شکار ہو گئے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حالیہ بیان نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف غیر حقیقی ہے، تاہم پاکستانی حکام کے مطابق افغان ترجمان کا بیان بھارت کے تیار کردہ بیانیے سے مشابہت رکھتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت اور فنڈنگ کے نیٹ ورک اب بھی افغانستان میں سرگرم ہیں۔ پاکستان نے تجویز دی کہ اگر افغان حکومت واقعی اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک سمجھتی ہے تو وہ بین الاقوامی مبصرین یا ترکی و قطر کے نمائندوں کے ساتھ مشترکہ مانیٹرنگ سسٹم پر رضامند ہو۔

پاکستان نے ہمیشہ امن، بات چیت اور علاقائی تعاون کو ترجیح دی ہے۔ پاکستان نے افغان عوام کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ لاکھوں مہاجرین کو دہائیوں تک پناہ دی۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے عوام کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دینے والا پاکستان اب صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کا خواہاں ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ امن تب ہی ممکن ہے جب وعدوں کے ساتھ عمل بھی دکھایا جائے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔