ہفتہ، 29-نومبر،2025
ہفتہ 1447/06/08هـ (29-11-2025م)

وفاقی کابینہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی

08 نومبر, 2025 08:00

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم پر کابینہ ارکان کو تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیراعظم نے آذربائیجان کے شہر باکو سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کی، جبکہ اجلاس میں خواجہ آصف، بلال اظہر کیانی، رانا تنویر، رانا مبشر، عون چوہدری، ڈاکٹر شہزرہ منصب، ریاض حسین پیرزادہ، قیصر احمد شیخ اور ملک رشید احمد شریک تھے۔

اجلاس میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی موجود تھے، جنہوں نے قانونی پہلوؤں پر کابینہ کو بریفنگ فراہم کی، اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اجلاس کے دوران آئینی ترمیم کی اہمیت اور اس سے متوقع قانونی اور سیاسی اثرات پر روشنی ڈالی، اٹارنی جنرل نے اس موقع پر قانونی نکات اور ترامیم سے متعلق وضاحتیں پیش کیں۔

کابینہ کے اجلاس میں تمام ارکان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئینی ترمیم سے سیاسی استحکام اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی میڈیا سے گفتگو

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ میثاق جمہوریت کے تحت آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اُن کے مطابق اس ترمیم کے بعد آئینی عدالت قائم کی جائے گی اور اب پارلیمنٹ آئین میں تبدیلی پر بحث کے بعد حتمی فیصلہ کرے گی۔

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کا بل آج ہی سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

ججز کی تقرری اور تبادلوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ججز کے تبادلے کا معاملہ جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جائے گا، اور جس ہائیکورٹ سے جج منتقل ہو گا یا جس میں شامل ہو گا، دونوں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس بھی اس عمل کا حصہ ہوں گے۔ آئینی عدالت کے ججز کی ریٹائرمنٹ عمر 68 سال تجویز کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر قانون نے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے بھی وضاحت کی کہ 6 سالہ مدت کے دوران ہر تین سال بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کی ضرورت آئینی طور پر اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی ترامیم کے تحت سینیٹ کے اراکین کا انتخاب پورے ملک میں ایک ہی وقت میں کیا جائے گا تاکہ انتخابات میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا تعطل نہ ہو۔

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ چھوٹے صوبوں کی نمائندگی میں اضافے کے لیے 11 فیصد سے بڑھا کر 13 فیصد کرنے کی تجویز بھی پارلیمنٹ کے سامنے رکھی جائے گی۔ اس کے علاوہ غیر منتخب کابینہ عہدیداروں جیسے ایڈوائزر اور معاون خصوصی کی تعداد بڑھانے کی سفارش بھی زیر غور ہے۔

وزیر قانون نے کہا کہ حالیہ پاک-بھارت کشیدگی نے دفاعی اداروں کی اصلاحات کی ضرورت واضح کی ہے، اور نئی آئینی ترامیم کے تحت فیلڈ مارشل کے عہدے سمیت مسلح افواج کی کمان کے نظام میں وضاحت شامل کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہ دو تہائی اکثریت سے منظور ہونے والی آئینی ترامیم آئین کا حصہ بنیں گی۔ ساتھ ہی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے بلدیاتی اختیارات سے متعلق آرٹیکل 140 اے کا بل بھی آج سینیٹ میں بحث کے لیے پیش کیا جائے گا، جسے اتحادی جماعتوں کے اتفاق رائے سے منظور کرایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے مطالبے پر بلوچستان میں انتخابی حلقوں کی تعداد بڑھانے کے معاملے کو بھی قائمہ کمیٹی میں زیر غور لایا جائے گا۔

اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کی جانب سے قومی مالیاتی کمیشن کے معاملے میں پارٹی کے اختلافات کی وجہ سے حکومت نے متعلقہ امور کو ترجیحی بنیادوں پر پارلیمنٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔