فوت شدہ افراد کے شناختی کارڈ منسوخ نہ کروانے پر کیا سزا ہوگی؟ نادرا کا اہم اعلان
نادرا نے شہریوں کی بڑی مشکل حل کردی
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کو ایک اہم ہدایت جاری کی ہے، جس کے تحت فوت شدہ افراد کے شناختی کارڈ منسوخ کروانا قریبی عزیزوں کی قانونی ذمہ داری ہے۔
ادارے نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی متوفی شخص کا شناختی کارڈ بروقت منسوخ نہ کرایا گیا تو اس کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ نادرا کے مطابق نادرا آرڈیننس 2000 کے سیکشن (1)17 کے تحت وفات پانے والے افراد کے شناختی کارڈ کی منسوخی لازمی ہے۔ اس قانون کا مقصد شناختی کارڈ کے غلط استعمال، دھوکہ دہی اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکنا ہے۔
نادرا کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ متوفی شخص کے شریک حیات، والدین، بچوں یا قانونی سرپرست میں سے کوئی ایک فرد متعلقہ یونین کونسل میں وفات کا اندراج کروائے اور وہاں سے کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرے۔ اس کے بعد وہ نادرا کے قریبی دفتر میں جا کر یا پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے شناختی کارڈ کی منسوخی کی درخواست جمع کروا سکتا ہے۔
نادرا کا کہنا ہے کہ ایسے شہری جو اپنے فوت شدہ رشتہ داروں کے شناختی کارڈ منسوخ نہیں کرواتے، وہ نادرا قوانین کے مطابق قید، جرمانے یا دونوں سزاؤں کا سامنا کر سکتے ہیں۔
ادارے کے ترجمان نے بتایا کہ فوت شدہ افراد کے شناختی کارڈ منسوخ نہ ہونے کی وجہ سے کئی بار فراڈ، جائیداد کے تنازعات اور جعلی لین دین کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ اس لیے شہریوں کو فوری طور پر اپنے اہل خانہ کے وفات شدہ افراد کے ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کروانا چاہیے تاکہ کسی بھی قانونی یا مالی مسئلے سے بچا جا سکے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










