سندھ: 4 سال میں 595 افراد کاروکاری کے نام پر قتل؛ خواتین سب سے زیادہ متاثر
سندھ: 4 سال میں 595 افراد کاروکاری کے نام پر قتل، خواتین سب سے زیادہ متاثر
کراچی: سندھ میں گزشتہ چار برسوں کے دوران کاروکاری کے نام پر 595 افراد قتل ہوئے، جن میں 466 خواتین اور 129 مرد شامل ہیں۔
پولیس کے ریکارڈ کے مطابق یہ دل دہلا دینے والی وارداتیں صوبے کے مختلف علاقوں میں ہوئی ہیں۔
سال وار جائزہ بتاتا ہے کہ 2022 میں 114 افراد، 2023 میں 167 افراد اور 2024 میں 152 افراد کاروکاری کے نام پر ہلاک ہوئے۔
صرف 2025 کے 10 ماہ کے دوران 162 افراد اس ظالمانہ روایت کا شکار ہوئے ہیں۔ متاثرہ خواتین کی تعداد ہر سال مردوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔
ملزمان کی تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ قتل کرنے والوں میں زیادہ تر مقتولین کے قریبی رشتہ دار شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق 294 ملزمان مقتولین کے شوہر، والدین، بھائی، بیٹے یا بہنیں ہیں، جبکہ 204 دیگر رشتہ دار اور 16 پڑوسی، دوست یا دیگر افراد شامل ہیں۔
یہ اعداد و شمار سندھ میں کاروکاری کی تباہ کن حقیقت کو واضح کرتے ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے خدشات پیدا کر رہے ہیں، پولیس نے تمام کیسز کی چھان بین شروع کر رکھی ہے تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









