سیکیورٹی فورسز کی کرم میں کارروائیاں، 23 بھارتی حمایت یافتہ خارجی ہلاک
Security forces conduct 3 operations in Khyber Pakhtunkhwa
سیکیورٹی فورسز نے کرم ضلع میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق کارروائیوں میں 23 بھارتی حمایت یافتہ خارجی دہشت گرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ان کارروائیوں میں دو مختلف دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے ایک آپریشن میں 12 خارجی ہلاک اور دوسرے آپریشن میں 11 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقے میں دیگر ممکنہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، یہ کارروائیاں پاکستان کے امن و امان کو برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کے تحت کی جا رہی ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آپریشنز خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور سیکیورٹی فورسز مکمل عزم کے ساتھ دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں۔
صدر اور وزیراعظم کی کرم میں فتنہ الخوارج کیخلاف کامیاب آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کی پذیرائی
اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کی کاوشوں کو سراہا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کرم میں خوارج کے خلاف کارروائیوں میں 23 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جس سے سیکیورٹی فورسز کی شاندار صلاحیتیں واضح ہوئی ہیں۔
انہوں نے یقین دلایا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی اور پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
صدر مملکت آصف زرداری نے بھی سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ قومی اتفاق رائے کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سیکیورٹی فورسز وطن عزیز کے دفاع میں پوری ثابت قدمی کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔
دونوں اعلیٰ حکام نے امن و امان کی بحالی اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے عزم کو سراہتے ہوئے قوم کو یقین دلایا کہ ملک میں امن قائم رکھنے کے لیے تمام اقدامات جاری رہیں گے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








